نوازشریف نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات میں نئی مفاہمت کو مزید پائیدار اور مضبوط بنایا جائے۔

پاکستان افغانستان کےساتھ اپنےبرادرانہ تعلقات کوانتہائی اہمیت دیتاہے:وزیراعظم
24 نومبر 2015 (13:54)
0

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان امن اور ترقی کیلئے افغانستان کی درخواست پر اس کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔اسلام آباد میں وزیرخزانہ EKLIL احمد حکیمی کی قیادت میں افغان وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک پرامن ، خوشحال اور ترقی کی جانب گامزن افغانستان پاکستان اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت د یتا ہے۔


انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کی قیادت میں دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات میں نئی مفاہمت کو مزید پائیدار اور مضبوط بنایا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔افغان وزیر خزانہ نے افغانستان میں امن اور ترقی میں خصوصی دلچسپی لینے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ صدر اشرف غنی نے علاقائی رابطے کے ذریعے دنیا کے اس حصے کی اقتصادی ترقی کے سلسلے میں وزیراعظم کی سوچ سے فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے سڑک اور ریل کے ذریعے علاقائی رابطہ بہتر بنانے کیلئے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا۔


کاسا 1000 اور دوسرے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکیمی نے کہا کہ ان منصوبوں کی جلد تکمیل سے خطے کے تمام ملکوں کیلئے سازگار ماحول فراہم ہوگا۔اس سے پہلے وزیرخزانہ اور ان کے افغان ہم منصب AKLEEL حکیمی نے اسلام آباد میں تفصیلی مذاکرات کئے اور دو سال میں دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔فریقین نے اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں مشترکہ تجارتی کونسل کا اجلاس بلانے ا ور ترجیحی تجارت کے معاہدے پر مذاکرات پر اتفاق کیا۔


وزیرخزانہ نے افغان وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں صحت، تعلیم، سڑک اور ریل رابطوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے تمام منصوبے مکمل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔علاقائی رابطے کا حوالہ دیتے ہوئے فریقین نے چمن سپن بولدک اور پشاور ، جلال آباد ریلوے لائن کی تعمیر کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کا کام تیز کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں ملکوں نے دریائے کنڑ پر مشترکہ منصوبوں اور کاسا 1000 پر عملدرآمد کیلئے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔


فریقین نے تجارت ، توانائی اور ریلوے کیلئے اعلیٰ سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔