وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے سربراہ نے الزامات درست ثابت کر دئیے اثاثے انکے ہسپتال کو عطیہ کر دیئے جائیں گے۔

وزیراعظم کے کوئی پوشیدہ اثاثے نہیں ہیں:پرویزرشید
24 جون 2016 (21:04)
0

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی میں جو اثاثے ظاہر کئے ان کے سوا وزیر اعظم کے کوئی پوشیدہ اثاثے نہیں ہیں۔
جمعہ کے روز پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان وزیر اعظم کے خفیہ اثاثوں کے بارے میں الزامات لگا رہے ہیں اور اب انہیں الیکشن کے سامنے الزامات ثابت کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے سربراہ نے الزامات درست ثابت کر دئیے تو یہ اثاثے ان کے ہسپتال کو عطیہ کر دیئے جائیں گے۔
پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن پرکڑی تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اب وہ ریفرنس داخل کرنے کیلئے اسی الیکشن کمیشن سے رجوع کر رہے ہیں۔
یہ کمیشن پر انکا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔
پانامہ لیکس کے تحقیقاتی کمیشن کے ضابطہ کار پر تعطل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ ضابطہ کار کا نہیں محض سیاست کامعاملہ ہے انہوں نے کہا تحریک انصاف' پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ حاصل نہیں کرسکتے اس لئے وہ منفی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی بی ٹیم بنتی ہے اور دھرنوں کی سیاست کا حصہ بنتی ہے تو یہ بدقسمتی ہوگی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف دل کے آپریشن کے بعد تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کا فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم رمضان کے آخر تک وطن واپس آجائیں گے۔
ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے اور اب خوف و خطر کی فضا اُمید کی کرن میں بدل رہی ہے۔
انہوں نے کہا انتہا پسندی سے دہشتگردی جنم لیتی ہے اور عسکریت پسندانہ ذہنیت کے خاتمے کیلئے دو سے چار سال لگیں گے۔
انہوں نے کہا کراچی میں امن و امان کی صورتحال خاصی بہتر ہوئی ہے۔
دہشتگرد اور مجرم بھاگ رہے ہیں اور اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات پر مزید توجہ دینے کی ضرور ت ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے اور وہ ریاستی ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے تاکہ ترقی اور خود انصاری کے مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔