چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پاکستان کا آئین، مسلح افواج اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیتا.

file photo

سوشل میڈیا پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جارہی :وزیر داخلہ
23 مئی 2017 (19:11)
0

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی پابندیاں نہیں لگائی جارہی ہیں لیکن اسے بے لگام بھی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔
انہوں نے منگل کی  شام اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے لیکن سوشل میڈیا پرنا معلوم پوسٹس کے ذریعے مذہبی شخصیات، فوج اور عدلیہ کے خلاف نازبیا تبصروں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آئین بھی فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن چند غیر محتاط عناصر ذاتی مفادات کیلئے نفرت انگیز کاموں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنے پر سڑکوں پر آنے کے تحریک انصاف کی دھمکی پر اسکو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف انکی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کاروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایف آٗئی اے کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا اور اب تک سوشل میڈیا کے 27اکاونٹس کی نشاندھی کی گئی ہے۔جو فوج، عدلیہ اور مقدس ہستیوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور توہین آمیز مواد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں آٹھ کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ صرف چھ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ باقی افراد نے ابھی تحقیقات کی جانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کے پروپیگنڈے کے برعکس نہ تو کوئی گرفتاری کی گئی ہے اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کسی کو ہراساں کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت انٹرنیٹ سروس سپلائیرز کو پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کرنے کی پیشکش دینے پر بھی غور کررہی ہے جس سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ڈان لیکس کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا حکومت صحافتی اداروں کی مشاورت سے ذرائع ابلاغ کیلئے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے پر بھی کام کررہی ہے۔