لائحہ عمل کے آغاز سے اب تک بیس سزا یافتہ مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے

دہشت گردی کیخلاف قومی لائحہ عمل کے نفاذ میں پنجاب سر فہرست
23 جنوری 2015 (19:22)
0

وزیراعظم محمد نوازشریف کی ہدایات پر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
لائحہ عمل کے آغاز سے اب تک بیس سزا یافتہ مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے جن میں سے پنجاب میں چودہ' سندھ میں پانچ اور خیبرپختونخوا میں ایک مجرم کو پھانسی دی گئی۔
پنجاب میں تلاشی کی پانچ ہزار چار سو ستاسی کارروائیاں ' سندھ میں تین سو بائیس ' خیبرپختونخوا میں ایک ہزار دوسو تئیس ' بلوچستان میں بارہ اور اسلام آباد میں دوسوپچھہتر کارروائیاں کی گئیں۔
پنجاب میں اب تک نوسو اٹھاون ' سندھ میں دوسو چوالیس ' خیبرپختونخوا میں دوسو چونتیس' بلوچستان میں ایک سو اٹھاسی اور اسلام آباد میں دوسو پینتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پنجاب میں نفرت انگیز تقریر کرنے پر چارسو چھتیس اور خیبرپختونخوا میں سترہ افراد کی نشاندہی ہوئی' ان میں سے پنجاب میں تین سو انتیس افراد اور خیبرپختونخوا میں دس افراد کو حراست میں لیا گیا۔
پنجاب میں اکیالیس دوکانوں کو سربمہر کیا گیا جبکہ ایک ہزار پچاسی مقامات سے نفرت انگیز مواد قبضے میں لیا گیا اور ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار افغان مہاجرین کو رجسٹرڈ کیا گیا۔
پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کی تشہیر کے الزامات کے سلسلے میں قانون سازی کا عمل جاری ہے ' پنجاب اس حوالے سے بھی واحد صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کے مسئلے پر ذرائع ابلاغ سے مشاورت شروع کی گئی ہے۔
وزیر اعظم نے اس حوالے سے پنجاب حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دوسرے صوبوں سے بھی کہا ہے کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے قومی لائحہ عمل پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کریں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت ملک کے تمام حصوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کیلئے ضروری وسائل فراہم کرے گی تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکے۔