وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اورافغانوں کی قیادت میں مصالحتی عمل وہاں قیام امن کاواحد راستہ ہے۔

امریکہ کو بتایاگیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں:وزیر اعظم
22 ستمبر 2017 (10:15)
0

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اہم امور پر اپناموقف موثرطریقے سے پیش کیاہے۔نیویارک میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے نکتہ نظر کو مثبت طورپر دیکھا گیا اور ہم نے ڈومور کی کوئی آواز نہیں سنی۔
وزیراعظم نے کہاکہ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے رابطہ کیاہے اور وہ پاکستان کا نکتہ نظر سمجھ گئے ہیں۔شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ امریکہ کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہاکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیے میں اُن سے ملاقات انتہائی مثبت رہی۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ کوبتادیاگیاہے کہ افغانستان کے مسئلے کاکوئی فوجی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اورافغانوں کی قیادت میں مصالحتی عمل وہاں قیام امن کاواحد راستہ ہے۔
ایک سوال پروزیراعظم نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں بھارت کا سیاسی یافوجی کردار تسلیم نہیں کرے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دنیا نے پاکستان میں سیاسی استحکام کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پانامہ پیپرز مقدمے کے فیصلے کے بعداقتدار کی پُرامن منتقلی سے ملک میں جمہوریت مستحکم ہوئی ہے۔

ادھر نیویارک میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین روس ترکی اور ایران نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی صورتحال کے بارے میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عالمی فورم پر کشمیر اور افغانستان کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر موثر انداز میں پیش کیاگیاہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں بھارت کے سیاسی اورفوجی کردارکی پیش بینی نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم افغانستان میں امن اوراستحکام چاہتے ہیں جو خود ہمارے اپنے مفادمیں ہے۔