اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہمیں مسلمان پناہ گزینوں کیساتھ امتیازی سلوک سے اجتناب کرنا چاہئے۔

پاکستان کا پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کی ضرورت پر زور
22 نومبر 2015 (12:06)
0

پاکستان نے بحیرہ روم کے ساحل پر پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کے بڑے بحران سے نمٹنے کیلئے انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی واضح حقیقی اور اجتماعی سوچ اپنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

یہ اپیل پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے واشنگٹن میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔  انہوں نے کہا کہ غیرملکی مداخلت سے حالات خراب ہوتے ہیں اور تشدد سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے جس سے ملکی نظام متاثر ہوتا ہے اور لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ بعض ممالک نے مسلمان پناہ گزینوں کوقبول کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔


پاکستانی مندوب نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار قانونی،سیاسی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔  انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو جانے والے پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جانا چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی تیس لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی کفالت کررہا ہے۔

ملیحہ لودھی نے شام، عراق، افغانستان اور دوسرے ممالک میں تنازعات کی روک تھام کیلئے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔


اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شامی پناہ گزینوں کے بارے میں کہا کہ ہمیں مسلمان پناہ گزینوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے اجتناب کرنا چاہیے۔
انہوں نے پیر س دہشت گرد حملوںکے تناظر میں مسلم مہاجرین کے حوالے سے شکوک شبہات پر گہری تشویش ظاہر کی۔