متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ 2017ء تک 1396میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔

پون چکیوں سے3500میگاواٹ بجلی پیداکرنے کے منصوبے کا آغاز
22 نومبر 2015 (19:10)
0

 متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ نے 2018 ء تک پون چکیوں کے ذریعے تین ہزارسے ساڑھے تین ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے ایک منصوبہ کا آغاز کیا ہے۔
یہ با ت بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امجد اعوان نے اسلام آباد میں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 1396 میگاواٹ بجلی 2017 تک قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی کیونکہ بورڈ کے کئی منصوبے اس وقت تک مکمل ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں پون چکیوں کے ذریعے255 میگاوٹ بجلی کے منصوبے کام کررہے ہیں جن میں FFC انرجی ' جھمپیر' زورلو انرجی ' پاکستان جھمپیر ' تھری کارجس فرسٹ ونڈ فار پاکستان جھمپیر اور فائونڈیشن ونڈ انرجی ون اور ٹو گھارو شامل ہیں۔
664 میگاواٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے چودہ منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ 2017-18 میں پیداوار کا آغازکردیں گے
انہوں نے کہا کہ بورڈ چاہتا ہے کہ 2018 ء تک ملک کی بجلی کی پیداوار کا 20 سے 25 فیصد حصہ پون چکیوں کے منصوبوں کے ذریعے حاصل کیا جائے۔
امجد اعوان نے کہا کہ پاکستان کے پاس پون چکیوں کے ذریعے30 ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں۔