وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کا بیان محض جائزوں پر مبنی ہے اور بھارت اس کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔

22 اگست 2017 (19:16)
0

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
وہ سینیٹ میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران امریکی انٹیلی جنس چیفس کے بیان کے بارے میں سحر کامران کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں اظہار خیال کررہے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت سرحد پار حملے روکنے کے تناظر میں پاکستان میں کوئی بھی جارحانہ کارروائی کرسکتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کا بیان محض جائزوں پر مبنی ہے اور بھارت اس کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر طرح کے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہا ہے۔
خرم دستگیر خان نے کہا کہ مسلح افواج اور پاکستان کے عوام بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی بڑھانے کا خواہشمند نہیں تاہم وہ کنٹرول لائن کے ساتھ رہنے والے عوام کا بھرپور دفاع کرے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیاب تکمیل کے بعد اب دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ردالفساد جاری ہے۔