بل میں آزاد اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کیلئے متعدد اصلاحات شامل ہیں۔

 قومی اسمبلی نے الیکشن بل 2017 کی منظوری دے دی
22 اگست 2017 (17:22)
0

آج قومی اسمبلی نے انتخابی بل 2017ء کی منظوری دی جس میں صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات یقینی بنانے کیلئے وسیع اصلاحات کی گئی ہیں۔
ایوان نے وزیر قانون اور حزب اختلاف کے اراکین کی بعض ترامیم بھی شامل کرلیں تاہم اپوزیشن کی دیگر ترامیم مسترد کردی گئیں۔
بل میں آٹھ ایسے انتخابی قوانین ہیں جو پارلیمنٹ کا ایکٹ بننے کے بعد منسوخ ہو جائیں گے۔
بل کی مجوزہ اصلاحات میں الیکشن کمیشن کی مالیاتی اور انتظامی خودمختاری شامل ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے حامل شہری خود بخود ووٹر تصور ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور بائیومیٹرک تصدیق کا آزمائشی منصوبہ شروع کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار وضع کرے۔
زیادہ سے زیادہ انتخابی اخراجات کی حد میں بھی تبدیلی کی گئی ہے ۔ سینیٹ کی نشست کیلئے اخراجات کی حد 15 لاکھ روپے، قومی اسمبلی کی نشست کیلئے چالیس لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
بل کے تحت نگران حکومت کے اختیارات کو غیر متنازعہ اور معمول کے امور تک محدود کردیاگیا ہے اور وہ ہنگامی نوعیت کے علاوہ کوئی بڑا پالیسی فیصلہ نہیں کرسکے گی۔
سیاسی جماعتیں عام نشستوں کیلئے کم ازکم پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینے کی پابند ہوں گی۔
ایوان کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔