ٹرمپ نے سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ نیکی اور بدی کے مابین جنگ ہے۔

21 مئی 2017 (20:16)
0

امریکہ اور عرب اسلامی ممالک کا سربراہ اجلاس ریاض میں شروع ہوگیاہے۔
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی پوری دنیا کے لئے خطرہ بن گئی ہے اور دنیا سے اس ناسور کے خاتمے کیلئے ملکوں کے درمیان تعمیری تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے نمٹنے کیلئے کثیر الملکی اتحاد قائم کیا گیا ہے۔
شاہ سلمان نے دنیا میں امن واستحکام کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مختلف مذاہب اور قومیتوں کے درمیان نہیں بلکہ نیکی اور بدی کے مابین جنگ ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ جنگ بنی نوح انسان کے تحفظ کرنے والوں اور ان کے زندگیوں کو برباد کرنے والوں کے درمیان ہے ۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ دہشت گردوں کے حملوں سے متاثرہونے والے پچانوے فیصد خود مسلمان ہیں۔

اس سے پہلے اجلاس میں شرکت کیلئے ریاض آمد پر ریاض کے گورنر سمیت سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے ائیرپورٹ پر وزیراعظم نواز شریف کا استقبال کیا۔
وزیراعظم کانفرنس سے اپنے خطاب میں اسلام کے امن ، رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو اجاگر کریں گے وہ اجلاس کے شرکا کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی کوششوں اور خطے میں امن و استحکام کے لئے اس کے کردار کے بارے میں بتائیں گے۔
نواز شریف عالمی رہنمائوں کے ساتھ انتہا پسندی کے خلاف عالمی مرکز کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، یہ مرکز سعودی عرب نے انتہا پسندی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت قائم کیا ہے۔


مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔