خواجہ آصف نے کہا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹو پالیسی کی منظوری دی ہے اور یہ پانچ سالہ پالیسی 2021ء تک کیلئے ہو گی۔

آٹو پالیسی کا اعلان،نیا پلانٹ لگانے پر5سال تک ٹیکس سے استثنیٰ
21 مارچ 2016 (21:49)
0

حکومت نے آٹوپالیسی 2016ء کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت ملک میں گاڑیوں کی صنعت کے فروغ اور قیمتوں میں کمی لانے کیلئے مختلف مراعات اور سہولیات دی جائیں گی جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کی گئی ہے، گاڑیوں کی تیاری کا نیا پلانٹ لگانے والوں کو پانچ سال تک ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گا، پاکستان میں تیار ہونے والے پرزہ جات پر آئندہ مالی سال سے ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کر کے 45 فیصد کر دی جائے گی، صارفین کے مفاد کے تحفظ کیلئے درآمدی کاروں اور ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے درمیان توازن کو برقرار رکھا جائے گا، بیمار صنعتی یونٹس کو بحال کرنے والے ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہونگے۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل اور وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے کہا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹو پالیسی کی منظوری دی ہے اور یہ پانچ سالہ پالیسی 2021ء تک کیلئے ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پرزہ جات جو پاکستان میں تیار نہیں ہوتے اور درآمد کئے جاتے ہیں ان پر ڈیوٹی کی شرح 32.5 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دی گئی ہے اور پاکستان میں تیار ہونے والے پرزہ جات پر آئندہ مالی سال سے ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کر کے 45 فیصد کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2017-18ء سے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح 10 فیصد تک کم کر دی جائے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ یہ پالیسی وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔