چوہدری نثارنے شہریوں سے کہا کہ وہ دہشتگردی کے موجودہ خطرے کے پیش نظرمحتاط رہیں اورملکی سلامتی کیلئے اپنا کردارادا کریں۔

وزیرداخلہ کا دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کاوشوں پر زور
21 دسمبر 2014 (18:39)
0

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ دہشتگردی کے موجودہ خطرے کے پیش نظر محتاط رہیں اور ملک کی سلامتی کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت کے بارے میں متعلقہ حکام کو مطلع کرنے کی غرض سے شہریوں کی سہولت کیلئے تمام ٹیلی فون نیٹ ورکس کا ایک خصوصی ٹیلی فون نمبر فراہم کیاجائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فوج کئی برس سے دہشتگردی کے خلاف لڑ رہی ہے ، تاہم اب ہر شہری کو ملک اور عوام کی سیکورٹی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ کسی ہوٹل میں دہشتگرد کے قیام پر متعلقہ ہوٹل کا مالک ذمہ دار ہوگا۔اسی طرح مکان مالکان کو بھی اپنی عمارتوں کو کرائے پر دیتے ہوئے محتاط رہنا چاہیئے ۔
چوہدری نثار نے سانحہ پشاور کے سلسلے میں علمائے کرام کے کردار کی تعریف کی ۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے قائم کی گئی ایکشن پلان کمیٹی انسداد دہشتگردی کی جامع حکمت عملی وضع کرنے کیلئے تیزی سے کام کررہی ہے اور اپنی رپورٹ مقررہ وقت میں پیش کردے گی ۔
اُنہوں نے کہا کہ فوج ایک ذمہ دار ادارہ ہے اور اس نے فوجی کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔
اُنہوں نے کہا کہ آپریشن کے آغاز میں وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ کے درمیان ملاقات میں مالی نقصان سے بچنے پر خصوصی زوردیاگیا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات سے متعلق ذرائع ابلاغ کیلئے ضابطہ اخلاق وضع کرنے پر کام جاری ہے اور اس ضابطے پر سختی سے عمل کیاجائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی کو بھی دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کو ان کیمپوں میں واپس جانا چاہیئے جہاں ان کا اندراج ہوا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کسی کو واپس اپنے ملک جانے پر مجبور نہیں کریں گے اور تمام فیصلے ملک کے بہترین مفاد میں کئے جائیں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور نئی افغان حکومت نے دہشتگردی کے واقعات کی نگرانی اور ان کی روک تھام کیلئے خفیہ معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیاہے ۔
چوہدری نثار علی نے ایک اور سوال پر کہا کہ موبائل کمپنیوں کو صارفین کی مناسب جانچ پڑتال کے بعد سمیں جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے مقام سے دونوں سمیں ملی ہیں جو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی خواتین کے نام پر رجسٹرڈ ہیں اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں ۔
چوہدری نثار علی نے کہا کہ بہارہ کہو سے تین سو سے زائد مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کیاگیاہے ۔