و فاقی وزیر صنعت و پیداوار نے سینٹ کو بتایا کہ10 سال تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ اور مشینری پلانٹ اور آلات پر درآمدی ڈیوٹی کی ایک بار چھوٹ کی بھی پیشکش کی جارہی ہے۔

حکومت بین الاقوامی مسابقت کیلئے مقامی صنعت کو مراعات دے رہی ہے:مرتضیٰ جتوئی
21 اپریل 2017 (12:45)
0

سینٹ کو آج بتایا گیا ہے کہ حکومت مقامی صنعت کو مراعات دے رہی ہے تاکہ بین الاقوامی مسابقت اور ملکی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔صنعتوں اور پیداوار کے وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ ایکسپورٹ پراسسنگ زونز میں شامل سرمایہ کار ٹیکس میں دی گئی چھوٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دس سال تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ اور مشینری پلانٹ اور آلات پر درآمدی ڈیوٹی کی ایک بار چھوٹ کی بھی پیشکش کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان مراعات اور سہولتوں میں تیس سال کیلئے تیارشدہ زمین کی مسابقتی نرخوں پر فراہمی ، ملکی درآمدقواعد وضوابط سے استثنیٰ ، ناکارہ مشینری کی ایک آسان طریقہ کار کے ذریعے ون ونڈو آپریشن کے بعد پاکستانی مارکیٹ میں فروخت کی جاسکتی ہے ۔ اسکے علاوہ بجلی ، گیس اور پانی کی دستیابی اور سمندر اور ہوائی اڈوں تک آسان رسائی کی سہولتیں شامل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے ایوان کو بتایا کہ پچھلے دس سال کے دوران تین لاکھ تیرہ ہزار تین سو بانوے قرضہ حاصل کرنے والے کاشتکاروں کو اکیس ارب پچاس کروڑ روپے کے زرعی قرضے معاف کئے گئے۔
ایک اور سوال کے جواب میں منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے فوج کی نو بٹالین اور سول آرمڈ فورسز کے چھ ونگز پر مشتمل خصوصی اسپیشل ڈویژن تشکیل دیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام سیکورٹی اہلکار پاکستانی شہری ہیں اور کسی غیرملکی کو سیکورٹی فورس میں نوکری نہیں دی جا سکتی۔

نکتہ اعتراض پر حزب اختلاف کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم پانامہ پیپرز کے مقدمے میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ ہوجانا چاہئیے۔بعد میں متحدہ قومی موومنٹ کے سواء حزب اختلاف کے ارکان نے حکومت مخالف نعرے لگائے۔
ایوان کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے ۔