Saturday, 24 October 2020, 07:28:51 pm
اپوزیشن قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے سے باز رہے،وزیرخارجہ
September 21, 2020

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف سے کہا ہے کہ وہ قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے سے باز رہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

وزیرخارجہ نے وزیراطلاعات سید شبلی فراز، منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر اور سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر چوہدری فواد حسین کے ہمراہ پیر کی سہ پہر اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کی گزشتہ روز کی کانفرنس حکومت سے کوئی رعایت یا قومی مفاہمتی آرڈیننس حاصل نہ ہونے پر ان کی مایوسی کی عکاس ہے۔
انہوں نے ملک کی خارجہ پالیسی پر حزب اختلاف کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا افغان امن عمل میں سہولت کار کی حیثیت سے پاکستان کے کردار کی معترف ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بڑی کامیابی ہے کہ اب بین الافغان مذاکرات اس ملک میں پائیدار امن کیلئے شروع ہوچکے ہیں۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اسلامی ممالک کی تنظیم، عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور دیگر فورمز پر جموں وکشمیر کے کے مسئلے کو موثر طور پر اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف حزب اختلاف حکومت کی کشمیر پالیسی پر تنقید کررہی ہے جبکہ دوسری طرف انہوں نے پارلیمان سے کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کی منظوری کیلئے حکومت کی حمایت کی۔
حزب اختلاف کے اس دعوی کو کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو ختم کیا جارہا ہے مسترد کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ سی پیک کے تمام منصوبے جاری ہیں اور مقررہ وقت پرمکمل کرلئے جائیںگے۔
وزیراطلاعات ونشریات سید شبلی فراز نے کہا کہ حزب اختلاف ریاستی اداروں کو متنازعہ بنارہی ہے جو ملک یا جمہوریت دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پورے انتخابی عمل کو بدنام کرنے کی بجائے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئے ٹھوس تجاویز دینی چاہیں۔
منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر نے حزب اختلاف کی سوچ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بدعنوانی کو چھپانے اور ذاتی مفادات کیلئے یہ چالیں چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حزب اختلاف نے اپنی بات نہ ماننے پر فوج، عدلیہ اور قومی احتساب بیوروسمیت ریاستی اداروں سے جنگ شروع کردی ہے۔
وزیرمنصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے دانستہ طور پیدا کئے گئے معاشی بحران پر کامیابی سے قابو پایا اور انکی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اپوزیشن نے پاکستان کو FATF کی بلیک لسٹ سے بچانے اور واپس گرے لسٹ میں لانے کیلئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق قانون سازی کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے رہنمائوں کی کل تقاریر کو بھارت میں سراہا گیا۔
اسد عمر نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام پوری طرح فعال ہے اور سول اور فوجی قیادتیں تمام امور میں تعاون کررہی ہیں۔
وزیرسائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر براہ راست نشر کرنے کی اجازت دیکر رواداری کی نئی روایات قائم کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف چاہتے تھے کہ ادارے انکی بدعنوانی کا تحفظ کریں مگر انکے انکار پر انکے خلاف ہوگئے۔