Saturday, 24 October 2020, 08:11:21 pm
علمائے کرام نے فرقہ ورانہ تشدد اور بے گناہ افراد کے قتل کو غیر اسلامی قرار دیا
September 21, 2020

مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے مذہب کے نام پر دہشت گردی' انتہاپسندی' فرقہ وارنہ تشد اور بے گناہ افراد کے قتل کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔

اس سلسلے میں پیر کو تیسرے پہر اسلام آباد میں منعقدہ وحدت امت کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مقرر کو انبیائے کرام' اہل بیت' صحابہ کرام' خلفائے راشدین' ازدواج مطہرات' امام صاحبان اور حضرت امام مہدی کی شان میں گستاخی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام مذہبی فرقے اوپر دئے گئے کسی بھی فعل میں ملوث ہونے والے فرد کی متفقہ طور پر مذمت کریں گے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ اسلام کے کسی بھی مسلک کو کافر قرار دیا جائے اور نہ ہی کسی مسلم اور غیر مسلم کو ماورائے عد الت قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
اعلامیے میں کتب، پمفلٹس سمیت منافرت پر مبنی مواد کی اشاعت یا کیٹس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے زریعے نفرت پھیلانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے اظہار یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے عوامی سطح پر مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کیا جائے۔
اعلامیے میں حکومت پر ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا گیا جو عبادت گاہوں اور غیر مسلموں کی مقدس مقامات کی بے حرمتی میں ملوث ہیں کیونکہ اقلیتوں کی جانوں ان کی عبادت گاہوں اور املاک کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اعلامیے میں حکومت پر نیشنل ایکشن پلان کو مکمل طور پر نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے علمائے کرام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ واریت ختم کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی اور صبرو تحمل کو فروغ دینے میں اپنا کرداراداکریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خلاف کئی سازشیں ہوئیںمگر ملک کے عوام دشمن کے مذموم عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت معاشرے میں انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔