Thursday, 19 September 2019, 01:33:58 pm
میرواعظ محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون کے یوم شہادت کے موقع پر وادی بھر میں مکمل ہڑتال
May 21, 2019

مقبوضہ کشمیر میں آج ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میرواعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کے یوم شہادت پر مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ قابض انتظامیہ نے وادی بھر میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

ہڑتال اور مزارشہداء عیدگاہ سرینگر کی طرف مارچ کی اپیل مزاحمتی قیادت نے کی تھی۔

علاقے میں تمام دکانیں ،کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

قابض انتظامیہ نے مارچ کو روکنے کے لیے سرینگر کے علاقوں خان یار، رعنا واری ، نوہتہ ، مہاراج گنج اور صنعاکدل میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس موقع پر بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی۔

قابض انتظامیہ نے میرواعظ عمرفاروق اور ہلال احمد وارکو سرینگر میں ان کے گھروں میں نظربند کردیاجبکہ مختار احمد وازہ کو اسلام آباد قصبے میں گرفتارکیاگیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی پہلے ہی اپنے گھر میں نظربند ہیں۔

حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے ایک بیان میں شہید رہنمائوں کے یوم شہادت پر سرینگر میں سخت پابندیاں عائد کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے ایک بیان میں میرواعظ مولوی محمد فاروق ،خواجہ عبدالغنی لون اور شہداء کے حول کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔

سینئر حریت رہنما محمد اشرف صحرائی نے ایک بیان میں کہاکہ تنازعہ کشمیر کے لیے دونوں شہید رہنمائوں کی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

میرواعظ مولوی محمد فاروق کو نامعلوم بندوق برداروں نے21مئی 1990ء کو سرینگر میں ان کی رہائشگاہ پر گولی مارکر شہید کیاتھا۔ بعد میں بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے علاقے حول میںان کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 70نہتے شہریوں کو شہید کردیا تھا۔

خواجہ عبدالغنی لون کو 2002ء میں اسی دن نامعلوم مسلح افراد نے عید گاہ سرینگرمیں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جاتے ہوئے گولی مارکر شہید کیاتھا۔

دریں اثناء بھارتی فورسز نے آج جنوبی کشمیر میں ضلع شوپیان کے علاقے یارون میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی جو آخری اطلاعات آنے تک جاری تھی۔