Sunday, 26 May 2019, 06:24:14 am
دفتر خارجہ کا کنٹرول لائن کے دونوں جانب تجارت معطل کرنے کے بھارتی فیصلے پر اظہارمایوسی
April 21, 2019

پاکستان نے کنٹرول لائن کے دونوں طرف تجارت معطل کرنے سے متعلق بھارت کے یکطرفہ فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کے غلط استعمال کے حوالے سے الزامات مسترد کردئیے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی اقدام کو اس کے ذریعے منشیات اور جعلی کرنسی کی سمگلنگ اور دہشتگردی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی سرگرمیوں کو نام نہاد دہشت گردی سے جوڑنے کیلئے بھارتی ہتھکنڈوں کی ایک کڑی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کنٹرول لائن کے آرپار تجارت دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کا فعال اقدام رہا ہے جو انتھک سفارتی کوششوں کا ثمر ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر کشمیر سے متعلق سرحد پار تجارتی سرگرمیوں کی معطلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کی طرف سے حاصل کردہ کامیابیوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی مشاورت کے بغیر سرحد کے دونوں طرف تجارتی سرگرمیوں کی معطلی انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سرحد کے آر پار منقسم کشمیریوں کے معاشی مسائل میں اضافہ ہوگا اور اس سہولت سے استفادہ کرنے والے افراد کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں ان معاملات سے نمٹنے کیلئے سرحد پار تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے بجائے کئی اور بہتر راستے تھے جنہیں اختیار کیا جاسکتا تھا۔بھارتی اقدام کے ردعمل میں پاکستانی اقدام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سہولت اور ان کے درمیان بہتر اقتصادی روابط کے قیام کیلئے کام کرتا رہے گا جو مقبوضہ کشمیر کے تصفیہ طلب مسئلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔