Thursday, 20 June 2019, 10:09:42 pm
پاکستان کاسمجھوتہ ایکسپریس میں دہشتگردحملوں میں ملوث ملزمان کی بریت پربھارت سےشدیداحتجاج
March 21, 2019

پاکستان نے ہریانہ کی ایک خصوصی عدالت کی طرف سے سمجھوتہ ایکسپریس میں دہشت گرد حملوں میں ملوث چارملزمان کی بریت پربھارت سے شدیداحتجاج کیاہے۔قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے بھارت کے ہائی کمشنرکودفترخارجہ طلب کیا اورپاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈکرایا۔قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے کہاکہ پاکستان بھارت کی طرف سے دہشت گردی کی اس گھنائونی کارروائی جس میں 44بے گناہ پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے ،مجرموں کو کیفرکردارتک پہنچانے کے حوالے سے پیشرفت اورکوشش نہ کرنے پرمسلسل تشویش ظاہر کرتارہاہے۔انہوں نے کہاکہ دوہزارسولہ میں ہارٹ آف ایشیا اجلاس سمیت اعلیٰ حکام کی سطح پر یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایاگیا اوربھارت کی جانب سے عدم تعاون پرباقاعدہ ا حتجاج بھی کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملوں کے گیارہ سال کے بعدملزمان کی بریت انصاف کے قتل کے مترادف ہے جس نے بھارتی عدالتوں کی نام نہادساکھ کو بے نقاب کردیاہے۔بھارتی عدالت کے اس فیصلے سے بھارت کادوغلہ پن بھی عیاں ہوتاہے جو ایک طرف پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے بے بنیادالزامات عائد کرتارہتاہے ۔دوسری طرف ان دہشتگردوں کوسزا سے اُس نے محفوظ رکھاہے جو سرعام گھنائونے جرائم کااعتراف کرچکے تھے۔قائم مقام خارجہ سیکرٹری نے کہاکہ بھارت کی جانب سے مجرمان کی بالترتیب ضمانت اور رہائی کے فیصلے سے بھارت کی بے حسی کااظہار ہوتا ہے اور واقعے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے چوالیس خاندانوں کی حالت زارکوذرابرابرمدنظرنہیں رکھاگیا۔انہوں نے کہاکہ عدالتی فیصلے سے ثابت ہوگیاہے کہ بھارت ہندوانہ انتہاپسندی کی پالیسی کو ہوا دے رہاہے۔ انہوں نے بھارت پرزوردیاکہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دہشت گرد حملوں کے مجرمان کوقرارواقعی سزادی جائے۔

اُدھردفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمدفیصل نے کہاہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے ملزمان کی بریت کے خلاف تمام سفارتی حلقوں میں آوازاٹھائی جائے گی۔ایک نجی نیوزچینل سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ ہم نے بھارت کو بارباریاددہانی کرائی کہ ملزمان نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی شہریوں کے بھی قاتل ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ملزمان کی ضمانت کے وقت بھی شدیداحتجاج کیاتھا۔