فیصلہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیرِ صدارت اعلی اجلاس میں کیا گیا

file photo

سپاٹ فکسنگ، ملوث کرکٹرزکے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری
20 مارچ 2017 (16:33)
0

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث تمام کرکٹرز کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی منظوری دے دی۔وزیرِ داخلہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ سپاٹ فکنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان بکیز کے خلاف بھی کاروائی کی جائے جو اس گھنانے کاروبار میں ملوث ہیں۔
فیصلہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیرِ صدارت اعلی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، ایڈوکیٹ جنرل، نادرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کے سینئر افسران شریک تھے۔
ای سی ایل پر ڈالے جانے والے کھلاڑیوں میں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان شامل ہیں۔
سپاٹ فکسنگ کے معاملے پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے وزیرِ داخلہ کو بتایا گیا کہ خالد لطیف اور محمد عرفان نے ایف آئی اے کو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑی کل اپنے بیانات دیں گے۔
وزیرِ داخلہ نے پی ٹی اے حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ کرکٹ میں جوا لگانے اور اسکو فروغ دینے والی تمام ویب سائٹس کو بھی بند کرنے کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں تاکہ اس گھنانے کاروبار کا سدباب کیا جا سکے۔
وزیرِ داخلہ نے ایف آی اے کو ہدایت کی کہ سپاٹ فکسنگ معاملے کی ہر پہلوسے شفاف
اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ پاکستان کا نام بد نام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش میں زیرو ٹالینرنس پالیسی اختیار کی جائے اور کسی بھی ملوث شخص کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
ایف آئی اے حکام نے نادرا بلڈنگ کیس پر اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ داخلہ کوآگاہ کیا۔
وزیرِ داخلہ نے ہدایت دی کہ آئندہ نادرا آفسزکے لئے کوئی بھی عمارت کرایے پر حاصل کرنے کی بجائے اپنی عمارت تعمیر کرنے کو ترجیح دی جائے۔
وزیرِ داخلہ نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ نادرا کی اپنی عمارتوں کے قیام کے لئے سرکاری زمینوں کی نشاندہی کی جائے اور عمارتوں کی تعمیر کے لئے مرحلہ وار بلڈنگ پلان ترتیب دیا جائے۔
اجلاس میں برطانوی ہوم سیکرٹری کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں کئے جانے والے سیکیورٹی انتظامات اور دورے کے دوران امیگریشن، کانٹر ٹریرازم اور ہیومن ٹریفکنگ جیسے مختلف امور میں تعاون کے فروغ کے لئے ممکنہ دو طرفہ معاہدوں پر غور کیا گیا۔


comments powered by Disqus