چین نے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

 پاکستان،چین کا دو طرفہ جوہری تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
20 اپریل 2015 (20:08)
0

چین نے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یہ آج(پیر کو) اسلام آباد میں پاک چین سدا بہار سٹریٹجک شراکت داری پر دستخطوں کے بعد جاری کئے گئے ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا۔
چین نے پاکستان کی طرف سے اہم مسائل پر چینی مفادات کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
اس نے اپنے ہمسایہ ممالک کے حل طلب مسائل کے پر امن تصفیے کے لئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اعلامئے میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور تعاون سے دونوں ملکوں اوران کے عوام کو فائدہ پہنچا ہے اور اس سے خطے اور خطے سے باہر امن ،استحکام اور ترقی کو تقویت ملی ہے۔
پاکستان نے چین کے ساتھ دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا۔
پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
بیان میں کہاگیا کہ دونوں ملک اپنے مشترکہ مفادات کی خاطر سٹریٹجک رابطے اور تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
پاکستان اور چین نے دو طرفہ تجارت میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا جو پندرہ ارب ڈالر کا حجم عبور کر گیا ہے۔ فریقین نے آئندہ تین سال میں اسے 32ارب ڈالر تک لیجانے کے لئے کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان نے چین کے مالی تعاون سے شاہراہ ریشم کی تعمیر اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کیلئے اس کے استعمال کا خیر مقدم کیا ہے۔
دونوں فریقوں نے یقین ظاہر کیا کہ سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور 21 ویں صدی کے میری ٹائم سلک روڈ اقدامات جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کا ایک نیا ماڈل پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے دفاع اور بحریہ میں تعاون مزید بڑھانے \' اعلیٰ سطح کے دورے جاری رکھنے اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان متعلقہ شعبوں میں مختلف سطحوں کے وفود کے تبادلوں پر بھی اتفاق کیا۔
انہوں نے ہتھیاروں کے کثیر الجہتی غیر امتیازی کنٹرول اور عدم جوہری پھیلائو کے اپنے عزم کا اعادہ کیا انہوں نے انپے دوطرفہ اور کثیر الجہتی عزم کے مطابق جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے اصولوں کے تحت سول جوہری توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا \' چین نے جوہری عدم پھیلائو کے عالمی نظام کو قومی دھارے میں لانے کے لئے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی تعریف اور حمایت کی۔ اس سلسلے میں چین نے نیو کلیئر سپلائرز گروپ کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کا خیرمقدم کیا۔