Thursday, 19 September 2019, 05:02:42 am
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کیلئے پاک ترکی تذویراتی اقتصادی لائحہ عمل کی منظوری دی
August 20, 2019

وفاقی کابینہ نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پاک ترکی تزویراتی اقتصادی لائحہ عمل کی منظوری دی ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد میں کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطح کی تعاون کمیٹی کی قیادت کریں گے جبکہ ترکی کی طرف سے صدر رجب طیب اردوان اس کی قیادت کریں گے۔

لائحہ عمل کے نو مشترکہ ورکنگ گروپ ہیں اور پاکستان کی جانب سے اقتصادی امور کے وزیر اس کے سربراہ ہوں گے۔

مشترکہ ورکنگ گروپ معیشت کے تمام شعبوں کا احاطہ کریں گے اور ان میں71 قابل عمل امور بھی شامل ہیں۔

ان امور میں آزاد تجارتی معاہدہ' ٹیکنالوجی کی منتقلی' استعداد کار اور دفاعی تعاون شامل ہیں' یہ لائحہ عمل پاکستان کو وسطی ایشیائ' روس اور مغربی ممالک سے ملانے میں مدد دے گا۔

وزیراعظم نے کابینہ کو حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد درپیش مسائل کے بارے میں بتایا انہوں نے کہا کہ معیشت کو جو تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی بحال کیا گیا اور اب معیشت مستحکم حالت میں ہے۔ حسابات جاریہ کے خسارے کو30 فیصد کم کیا گیا اور ایک سال کے اندر وہ انیس ارب80 کروڑ ڈالر سے کم ہوکرتیرہ ارب پچاس کروڑ ڈالر ہوگیا۔

اجلاس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں خصوصاً بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر بھی غور کیا گیا۔

کابینہ نے تاجروں کو اعتماد دینے اور کاروبار دوست ماحول یقینی بنانے کیلئے اقدامات پر غور کیا گیا۔

کابینہ نے نیب کے کام میں طریقہ کار کے مسائل پر بھی غور کیا جو تاجروں کو فیصلے کرنے سے روک سکتا ہے۔

کابینہ نے نجکاری کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی توثیق کی۔

کابینہ نے نادار اور بے گھر افراد کو بلاسود قرضوں کے لئے پانچ ارب روپے کی منظوری دی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قرضوں کی تقسیم میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس سکیم کے اجراء کیلئے لائحہ عمل اور تفصیلی حکمت عملی تیار کی جائے۔

کابینہ نے اصولی طور پر مسیحیوں کی شادی اور طلاق کے بل کی ان کی مذہبی اقدار اور مسیحی برادری کی پیروی کی بنا پر منظوری دی۔

اس کے علاوہ گھریلو تشدد کے خلاف اور خواتین کے تحفظ کے بل کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے حکومت کے پہلے سال کے دوران اہم مشکلات اور کامیابیوں کا بھی جائزہ لیا۔

مختلف وزراء نے اپنی وزارتوں کی طرف سے شروع کئے جانے والے عوامی فلاح کے منصوبوں کے بارے میں تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزیراعظم کے شکایات سیل اور پاکستان سٹیزن پورٹل کو مل کر کام کرنا اور معلومات کا تبادلہ کرنا چاہئے تاکہ یہ شکایات دوبارہ نہ ہوں۔

کابینہ نے ملک میں شجرکاری میں اضافے کے سلسلے میں اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور پھلدار پودے لگانے کیلئے نوجوانوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔

کابینہ نے متعلقہ وزارت کو ہدایت کی کہ پہاڑی علاقوں میں جہاں گیس کی سہولت نہیں ہے۔ سورج کی روشنی سے چلنے والے چولہے فراہم کئے جائیں۔

وزیراعظم نے کابینہ کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونیوالی بات چیت کی تفصیل بتائی۔

وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ بھارت مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اسے حقائق معلوم کرنے کا مشن تشکیل دینا اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے روکنا چاہئے۔

کابینہ نے کشمیر کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کی باضابطہ منظوری دی۔

فردوس عاشق اعوان نے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے تعاون سے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ کشمیر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ذرائع ابلاغ سمیت تمام عناصر کو نریندر مودی کے کشمیر کے الحاق کے عزائم کے خلاف آواز بلند کرنے کی مہم کو تیز کرنا چاہئے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بری فوج کے سربراہ کا تسلسل وزیراعظم عمران خان کا درست اقدام ہے کیونکہ ہمیں علاقائی پالیسیوں کے تناظر میں پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت ہے۔

 

(کیانی/ظفر/ںاصرمحمود)