Wednesday, 11 December 2019, 08:10:12 am
وزیراعظم امریکی قیادت کے ساتھ اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے:قریشی
July 20, 2019

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکی قیادت کے ساتھ دوطرفہ علاقائی اور اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیراعظم کے دورے سے پہلے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ اس دورے سے پاکستان اورامریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مزید وسعت پرتوجہ مرکوز کی جائے گی جو گزشتہ کئی سال سے افغانستان کی صورتحال اورمعاملے پرمبنی تھے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پیرکو وائٹ ہائوس میں صدرڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کریں گے جس میں وہ دونوںملکوں کے درمیان باہمی تعاون کے مشترکہ نکات کواجاگر کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم باہمی اعتماد اورتعاون پرمبنی دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

شاہ محمودقریشی نے افغانستان میںامن کے قیام اور پُرامن جنوبی ایشیا سمیت پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے متعددشعبوں کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ دیرپاامن نہ ہونے سے جنوبی ایشیا دیگرترقی یافتہ خطوں کے مقابلے میں ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیاہے۔کشمیرکے معاملے پرانہوں نے کہاکہ یہ ایک سلگتاہوامسئلہ ہے ،مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ متنازعہ علاقے میں صورتحال کی سنگینی سے عالمی برادری پوری طرح آگاہ ہے۔شاہ محمودقریشی نے پلوامہ واقعے کے تناظر میں پاکستان اوربھارت کے درمیان تنائو میں کمی لانے میںامریکہ کے کردارکوسراہا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مفیدباہمی اقتصادی تعلقات کاخواہشمند ہے اور وزیراعظم عمران خان پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کریں گے۔انہو ں نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کئے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز میںپاکستان امریکہ کی جانب سے سرمایہ کاری کاخیرمقدم کرے گا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان واشنگٹن میں پاکستانی برادری کے اجتماع سے خطاب کریں گے وہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو، سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ارکان اورامریکہ پاکستان بزنس کونسل کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ وزیراعظم کیپیٹل ہل میں پاکستان کاکس کے ارکان سے بھی بات چیت کریں گے جسے کانگریس کے تقریباً چالیس ارکان کی حمایت حاصل ہے۔