Saturday, 20 July 2019, 06:49:21 am
قومی اسمبلی، زرداری کی حکومت،حزب اختلاف کو طویل المدتی اقتصادی پالیسی کی تجویز
June 20, 2019

قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے بجٹ پر آج بھی بحث جاری ہے۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاکہ حکومت اور حزب اختلاف کو مل بیٹھ کر ملک کیلئے طویل المدتی اقتصادی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیاہے تاہم تنخواہوں میں یہ اضافہ ان پر عائد ٹیکسوں میں اضافے سے ان کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے سے ٹیکس اداکررہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں اور تاجروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر سپیکر کا شکریہ ادا کیا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم نے مشکل اقتصادی صورتحال میں ممکنہ بہترین بجٹ پیش کرنے کی شاندار کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کی برآمدات بڑھانے کی غرض سے زرعی شعبے کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی کے پنشنروں کے لئے بھی دس سے پندرہ فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات اور متوسط طبقے کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے، انہوں نے تجویز دی کہ چینی، خوردنی تیل اور چھوٹی کاروں پر ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کیا جاناچاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے قیصر احمد شیخ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی ہوئی، انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے حکومت کو صنعتوں سے تعاون کرنا چاہیے۔