Wednesday, 21 August 2019, 01:10:44 pm
محمد یاسین ملک کوتشویش ناک حالت میں نئی دلی کے ایک ہسپتال میں داخل کر دیا گیا
April 20, 2019

فائل فوٹو

بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی غیر قانونی حراست کے دوران بھوک ہڑتال کے باعث جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کوتشویش ناک حالت میں نئی دلی کے ایک ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔

اس بات کا انکشاف آج سرینگر میں محمد یاسین ملک کے اہلخانہ نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے کہاکہ لبریشن فرنٹ کے سربراہ10اپریل سے مسلسل بھوک ہڑتال پر تھے جنہیں چار روز قبل انتہائی نازک حالت میں نئی دلی کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تاہم انہیں اس بارے میں آج بتایا گیا۔

محمد یاسین ملک ایک جھوٹے مقدمے کے سلسلے میں نئی دلی میں این آئی اے کی حراست میں ہیں۔

لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ دلی کی ایک عدالت کے حکم پر یاسین ملک کے وکیل نے آج ان سے ملاقات کرنی تھی تاہم گزشتہ شپ این ائی اے کے حکام نے انہیں بتایا کہ مجوزہ ملاقات منسوخ کردی گئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ آج صبح حکام نے ان سے دوبارہ رابطہ کرکے انہیں دہلی کے رام منوہر ہسپتال آنے کے لیے کہاگیا جہاںانہوں نے محمد یاسین ملک کو نازک حالت میں دیکھا۔

انہوں نے کہاکہ محمد یاسین کے ساتھ این آئی اے کے ظالمانہ سلوک کے خلاف لبریشن فرنٹ 28اپریل سے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر پانچ روزہ احتجاجی دھرنا دے گی۔

ادھر محمد یاسین ملک کی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقلی کی خبر پھیلتے ہی سرینگر کے علاقے مائسمہ میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر میں ایک بیان میں محمد یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پرشدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ لبریشن فرنٹ کے سربراہ کی حالت پر تمام کشمیری پریشان ہیں اوریہ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا علاج معالجے، صحت اور تحفظ یقینی بنائے۔

حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے ایک بیان میں کہاکہ محمد یاسین ملک کا تحفظ قابض انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جس نے ان کو گرفتارکرکے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا تھا۔

 تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی اور مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار نے بھی اپنے بیانات میں این آئی اے کی حراست میں محمد یاسین ملک کی حالت بگڑنے پرشدید تشویش کااظہار کیاہے۔

ادھر ضلع کپوارہ کے علاقے ترہگام میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے ایک کشمیری نوجوان کو تشددکانشانہ بنانے اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔

ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں ایک لاپتہ نوجوان ریاض احمد کے اہلخانہ نے اس کی تلاش کے لیے لوگوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ ریاض گزشتہ کئی روز سے لاپتہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے تین کشمیری نوجوانوں کی نظربندی کے احکامات کالعدم قراردیتے ہوئے قابض انتظامیہ کو انہیں فوری طورپر رہا کرنے کی ہدایت کی ہے۔