Sunday, 25 August 2019, 09:28:23 am
امریکہ کو پاکستان کیساتھ مالیاتی تعلقات کو تزویراتی اشتراک عمل میں تبدیل کرنا چاہئے،لنڈسے گراہم
January 20, 2019

امریکی ریپلکن سینیٹر LINDSAY GRAHAM نے کہا ہے کہ امریکہ کو دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد کیلئے مالیاتی تعلقات کو پاکستان کے ساتھ تذویراتی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہئے۔انہوں نے یہ بات اتوار کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔پاکستانی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو مفید قرار دیتے ہوئے امریکی سینیٹر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہمارے پاس تعلقات میں ایسی تبدیلی لانے کا منفرد موقع ہے جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدہ اور مربوط معیشتیں باہمی طور پر فائدہ مند ہونگی۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی زیادہ ہے اور تجارتی تعلقات میں بہتری سے ملک میں ہماری مصنوعات کی طلب میں بڑا اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔لنڈسے گراہم نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقات کے بعد وہ بہت پرامید ہیں اور وہ تعلقات اور افغان مفاہمتی عمل میں پیشرفت کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وزیراعظم عمران خان سے بات چیت کیلئے زور دینگے۔امریکی سینیٹر نے عمران خان کو تبدیلی کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے ان کی بے حد تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل سے متعلق بات کرنے پر عمران خان پر کئی عشروں سے تنقید کی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان حق پر تھے کیونکہ جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ مصالحت ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کا طاقت کے زور پر دوبارہ افغانستان پر قبضہ کسی کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان میں امن اور مصالحت کا وقت ہے۔لنڈسے گراہم نے قبائلی علاقوں میں پاکستان کے فوجی آپریشن اور دہشت گردی کے خلاف اس کی قربانیوں کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی پر خاطر خواہ رقم خرچ کی گئی جس کی وجہ سے وہاںکئی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔امریکی سینیٹر نے کہا کہ پاکستان نے اپنی افغانستان سے ملحقہ سرحد محفوظ بنانے کیلئے ایک فوری منصوبہ بنایا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان بھی ایسا منصوبہ بنائے۔انہوں نے کہا کہ وہ امریکی انتظامیہ اور ارکان پارلیمنٹ کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کرینگے جو انہوں نے پاکستان میں دیکھی ہیں۔افغان مصالحتی عمل کے بارے میں ایک سوال پر امریکی سینیٹر نے کہا کہ اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن انہیں ایسے امکانات نظر آ رہے ہیں جو مصالحت کا باعث بنیں گے۔افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بارے میں ایک سوال پر امریکی سینیٹر نے کہا کہ انخلاء سے قبل امریکہ کی سرمایہ کاری زیادہ اہم ہو گی۔انہوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان اور پاکستان کو امریکہ میں بوجھ سمجھاجاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انہیں شراکت دار سمجھنے کی صرورت ہے۔