بل چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان کی تقرری کے طریقہ کار اور ان کی تعلیمی قابلیت سے متعلق ہے۔

قومی اسمبلی سے 22ویں آئینی ترمیم کا بل متفقہ منظور
19 مئی 2016 (21:30)
0

قومی اسمبلی نے جمعرات کے روز متفقہ طو ر پر آئین میں بائیسویں ترمیم کے بل مجریہ دوہزار سولہ کی منظوری دی۔یہ بل قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کیا تھا۔

یہ بل چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے طریقہ کار اور ان کی تعلیمی قابلیت سے متعلق ہے۔بل میں کہاگیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پروزیراعظم اورقائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں دونوں الگ الگ فہرستیںغور کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے اورکمیٹی ان میں سے ایک کی منظوری دے گی۔
دو سو چھتیس ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔قانون و انصاف کے وزیر زاہدحامد اور وزیرخزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا کہ یہ تاریخی موقع ہے کہ بائیسویں آئینی ترمیم کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی ہے۔انہوںنے اتفاق رائے پیدا کرنے اور بل کی منظوری دینے کے لئے تمام جماعتوں اور انتخابی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے ارکا ن کو مبارکباد دی۔
قومی اسمبلی نے آج ایک تحریک کی منظور ی دی جس کے تحت سپیکر کو سینٹ کے چیئرمین، قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی پارٹی کے رہنمائوں کی مشاورت سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیا گیا ہے جوپانامہ پیپرز کے معاملے کی تحقیقات کے لئے ضابطہ کار تیار کرے گی۔یہ تحریک قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کی تھی۔
تحریک میں کہاگیا ہے کہ کمیٹی متنازعہ پانامہ پیپر ز میں اٹھائے گئے اہم نکات آف شورکمپنیوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں ،پاکستان سے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کی بیرون ملک منتقلی ،کمیشن اوربینکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں سے متعلق تحقیقات کے مختلف پہلوئوں پر غور کرے گی۔
کمیٹی دو ہفتے میں پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ایوان کا اجلاس اب کل صبح ساڑھے دس بجے ہوگا ۔