یہ بل چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے طریقہ کار اور ان کی تعلیمی قابلیت سے متعلق ہے۔

File photo

قومی اسمبلی:22 ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری
19 مئی 2016 (15:13)
0

قومی اسمبلی نے آج متفقہ طو ر پر آئین میں بائیسویں ترمیم کے بل دوہزار سولہ کی منظوری دی۔

یہ بل قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کیا تھا۔
یہ بل چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے طریقہ کار اور ان کی تعلیمی قابلیت سے متعلق ہے۔
بل میں کہاگیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پروزیراعظم اورقائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں دونوں الگ الگ فہرستیںغور کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے اورکمیٹی ان میں سے ایک کی منظوری دے گی۔

دو سو چھتیس  ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔
قانون و انصاف کے وزیر زاہدحامد اور وزیرخزانہ محمد اسحق ڈار نے کہا کہ یہ تاریخی موقع ہے کہ آئینی بائیسویں ترمیم اتفاق رائے سے منظوری کی گئی ہے۔
انہوں  نے اتفاق رائے پیدا کرنے اور بل کی منظوری دینے کے لئے تمام جماعتوں اور انتخابی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی پارٹی کے ارکا ن کو مبارکباد دی۔
زاہد حامد نے کہا کہ کمیٹی جلد انتخابی قوانین کو حتمی شکل دے گی۔

ایوان  نے ایک تحریک کی منظور ی دی جس کے تحت سپیکر کو سینٹ کے چیئرمین، قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی پارٹی کے رہنمائوں کی مشاورت سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیا گیا ہے جوپانامہ پیپرز کے معاملے کی تحقیقات کے لئے ضابطہ کار تیار کرے گی۔
یہ تحریک قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کی تھی۔
تحریک میں کہاگیا ہے کہ کمیٹی متنازعہ پانامہ پیپر ز میں اٹھائے گئے اہم نکات کی تحقیقات آف شورکمپنیوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں ،پاکستان سے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کی بیرون ملک منتقلی ،کمیشن ،بینکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں سے متعلق مختلف پہلوئوں پر غور کرے گی۔
کمیٹی ضابطہ کار بنائے گی اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے نظام الاوقات وضع کرے گی۔
کمیٹی حکومت اورحزب اختلاف کے چھ چھ ارکان پر مشتمل ہوگی جو پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سے لئے جائیں گے۔
کمیٹی دو ہفتے میں پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
اس سے پہلے ایوان میں قانون سازی کے لئے وقفہ سوالات معطل کردیا گیا۔