کمیٹی ضابطہ کار بنائے گی اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے نظام الاوقات وضع کرے گی۔

قومی اسمبلی نے پانامہ پیپرز پر ضابطہ کار کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دے دیا
19 مئی 2016 (12:14)
0

قومی اسمبلی نے آج ایک تحریک کی منظور ی دی جس کے تحت سپیکر سینٹ کے چیئرمین، قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی پارٹی کے رہنمائوں کی مشاورت سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیںگے جوپانامہ پیپرز کے معاملے کی تحقیقات کے لئے ضابطہ کار تیار کرے گا۔یہ تحریک قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کی تھی۔
تحریک میں کہاگیا ہے کہ کمیٹی متنازعہ پانامہ پیپر ز میں اٹھائے گئے اہم نکات کی تحقیقات آف شورکمپنیوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں ،پاکستان سے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کی بیرون ملک منتقلی ،کمیشن ،بینکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں سے متعلق مختلف پہلوئوں پر غور کرے گی۔کمیٹی ضابطہ کار بنائے گی اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے نظام الاوقات وضع کرے گی۔
کمیٹی حکومت اورحزب اختلاف کے آٹھ آٹھ ارکان پر مشتمل ہوگی جو پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سے لئے جائیں گے۔کمیٹی دو ہفتے میں پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔اس سے پہلے ایوان میں قانون سازی کے لئے وقفہ سوالات معطل کردیا۔
ادھر ایوان میں دو بلوں کی منظوری بھی دی گئی جن میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (ترمیمی) بل2016 اور خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی بل 2016 شامل ہیں۔
یہ بل قانون و انصاف کے وزیر زاہد حامد اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے پیش کئے تھے۔

پانامہ  پیپرز کے معاملے پر بحث کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے صاحبزادہ طارق اللہ نے بلا امتیاز احتساب پر زوردیا ۔
انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز نے بد عنوانی کے خاتمے کے بارے میں موثر قوانین وضع کرنے کے لئے ایک موقع فراہم کیا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بد عنوانی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کئے جانے چاہئیں کہ کوئی بد عنوان شخص پارلیمنٹ کا ممبر نہ بن سکے۔
شاہ جی گل آفریدی نے پانامہ پیپرز کے معاملہ پر وزیراعظم کی طرف سے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو احتساب کے لئے پیش کرنے کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے سخت قوانین بنائے جانے چاہئیں۔