اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جموں و کشمیر میں رائے شماری اور کشمیر بارے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کا مطالبہ۔

کنٹرول لائن کے آر پار کشمیریوں نے یوم الحاق پاکستان منایا
19 جولائی 2016 (19:37)
0

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیریوں نے منگل کے روز یوم الحاق پاکستان بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کے ساتھ منایا۔
1947میں آج کے دن کشمیریوں نے جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے سرینگر میں ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں بھارت کے تقسیم ہندکے منصوبے ، دو قومی نظریے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق جموں وکشمیر کی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیاگیاتھا۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے عائد کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے اس دن کے سلسلے میں کوئی پروگرام منعقد نہیں کر سکے ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء گھروں میں نظربندی یا گرفتایوں اور ٹیلی فون کی سہولت کی عدم دستیابی کی وجہ سے ا نٹرویونہیں دے سکے۔
تا ہم کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک سیمینار میںمقررین نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی۔
اس موقع پر منظور کی گئی قرارداد میں بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں قتل عام کا سلسلہ بند ، کشمیری نظربندوں کو رہا اور انکے خلاف درج جھوٹے مقدمے ختم کرے ۔قرارداد میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جموں وکشمیرمیں رائے شماری کرانے اور عالمی ادارے سے کشمیر کے بارے میں خصوصی نمائندہ مقررکرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔
مظفر آباد، میر پور، سیالکوٹ، نارووال اور دیگر شہروں میں یوم الحاق پاکستان کے سلسلے میں مختلف تقاریب اورریلیاں منعقد کی گئیں۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں جاری انتفادہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 48ہوگئی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری قتل عام کے خلاف احتجاج کے لیے کل پورے پاکستان اورجموں و کشمیرکے دونوں حصوں میںیوم سیاہ منایا جائے گا۔