ترجمان نے کہا کہ بھارت کے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور دہشت گردی میں مالی معاونت کے ناقابل تردیداور ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

دہشت گردی خاتمہ:پاکستان کا افغانستان کیساتھ اشتراک عمل جاری رکھنے کا عزم
19 جنوری 2017 (19:41)
0

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور دہشت گردی میں مالی معاونت کے ناقابل تردیداور ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیو ز بریفنگ میں کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان دہشت گردی خصوصاً بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان سے زیادہ اقدامات نہیں کئے اور ہماری کامیابیوں کا دنیا بھر میں واضح اعتراف کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ محاذآرائی اور دہشتگردی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تاہم انہوں نے اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ بھارت نے کشمیر کے بنیادی مسئلے سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے بات چیت سے راہ فرار اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے اور خطے میں امن اور ترقی کیلئے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی ممالک سے متعلق امریکی نائب صدر کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اس کا الزام پاکستان کو دینا منصفانہ اور درست نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بھارت ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً ایٹمی طاقت کے حصول کی راہ اختیار کرنا پڑی۔
پاکستان بھارت سے کہیں چھوٹا ملک ہے اور اس کے پاس بھارت کو ایٹمی بلیک میلنگ سے روکنے کا اور کوئی راستہ نہ بچا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے باوجود پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ سے گریز کے اصول پر کاربند ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نفیس ذکریا نے کہا کہ یہ الزامات امن و استحکام کی کوششوں میں نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان اور دیگر ممالک کے لئے باعث تشویش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغان قیادت سے اشتراک عمل جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔