دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرنے کیلئے مختلف اقدامات کئے:بلیغ
19 جنوری 2017 (19:26)
0

سینٹ کو جمعرات کے روز بتایا گیا کہ حکومت نے ملک میں دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرنے کے لئے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
امور داخلہ کے وزیرمملکت بلیغ الرحمن نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ ملک میں دہشت گردوں کی جانب سے فنڈنگ کے بڑے ذرائع میں بھتہ خوری، بعض غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی مالی امداد اور منشیات سے حاصل کی جانے والی رقم شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اب تک 844 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
بلیغ الرحمن نے کہا کہ دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کیلئے انسداد دہشت گردی کے ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ایکٹ کے تحت باسٹھ تنظیوں کو کالعدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے قوانین پر سختی سے عمل کیلئے تمام بینکوں کو تفصیلی ضابطہ کار جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے لئے الیکٹرانک کرائم ایکٹ2016 ء کو نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے لئے کسی بھی اطلاعاتی نظام یا الیکٹرانک آلات کے ذریعے رقم اکٹھی کرنا جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی لائحہ عمل کے تحت دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کیلئے مالی امداد کی روک تھام موثر طریقے سے کی جارہی ہے۔
ایک سوال پر ریاستوں اور سرحدی علاقوں کے وزیر عبد القادر بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی ترقی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں فاٹا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت بیس ارب اٹھاون کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اس رقم میں سے پہلی اور دوسری سہ ماہی میں اب تک آٹھ ارب 23 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا میں خودروزگار کے فروغ کی غرض سے سود سے پاک قرضوں کی فراہمی کے لئے پچاس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ سال آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے تیرہ ارب تیس کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران گلگت بلتستان میں نو ترقیاتی سکیموں کے لئے نوارب93 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی اور ان سکیموں کی تکمیل کیلئے دس ارب اکتالیس کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
ایک سوال پر اطلاعات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ ثقافتی صنعت کے تحفظ اور بحالی کے لئے ثقافتی پالیسی پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت پرفارمنگ آرٹس اور VISUAL آرٹس سمیت قومی ثقافت اور ورثے کے تمام شعبوں پر کام کیا جائے گا۔