پارلیمانی سیکرٹری سیفران نے ایوان کو بتایا کہ حکومت مکمل تباہ گھروں کے مالکان کو 4 لاکھ روپے فراہم کررہی ہے۔

فاٹا کے دہشتگردی سے متاثرہ افرا د میں5 ارب20 کروڑ روپے سے زیادہ رقم تقسیم
19 اپریل 2017 (13:31)
0

قومی اسمبلی کو آج بتایاگیا کہ قبائلی علاقوں میں دہشتگردی سے متاثرہ افرا د میں معاوضے کے طورپر پانچ ارب بیس کروڑ روپے سے زیادہ رقم تقسیم کی گئی ہے۔وقفہ سوالات کے دوران ریاستوں اورسرحدی علاقوں کی پارلیمانی سیکرٹری شاہین شفیق نے ایوان کو بتایا کہ حکومت مکمل طورپر تباہ ہونیوالوں گھروں کے مالکان کو چار لاکھ روپے اور ان کے گھروں کے مالکان کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے فراہم کررہی ہے جنہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے چار سال کے دوران فاٹا کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں مجموعی طورپر ایک ہزار چھہتر سکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ حکومت قبائلی عوا م کی فلاح و بہبود اور دوسرے منصوبوں پر بھی کام کررہی ہے۔

ایک سوال پر وزیر تجارت خرم دستگیر نے ایوان کو بتایا کہ چاول کی برآمد میں اضافہ ہورہا ہے اورپاکستانی چاول کے لئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کا تجارتی خسارہ تیئس ارب ڈالر ہے اور سٹیٹ بنک نے تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے اشیائے تعیش کی برآمد کی حوصلہ شکنی کے اقدامات کئے ہیں۔
ایوان میں آج قرآن پاک کی لازمی تعلیم کے بل 2017 کی منظوری دی گئی۔یہ بل تعلیم کے وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے پیش کیا تھا جس کے تحت تمام تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کے لئے قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے تعلیم کے وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے کہا کہ اس بل کے تحت پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک طلبہ کو قرآن پاک ناظرہ پڑھایا جائے گا جبکہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک طلبہ کو قرآن پاک ترجمعہ پڑھایا جائے گا۔انہو ں نے واضح کیا کہ یہ قانون سازی صرف مسلمان طلبہ کیلئے ہے۔
ایوان کا اجلاس اب کل صبح ساڑھے دس بجے ہوگا۔