Thursday, 22 October 2020, 03:06:07 pm
بھارتی فوج کی طرف سے کشمیر میں پیلٹ گنز کا استعمال ایک جنگی جرم ہے، کشمیری مبصرین
September 19, 2020

فائل فوٹو

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرتسلط کشمیر میں سیاسی تجریہ کاروں اور کشمیر کے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیر میں پیلٹ گنز کا حالیہ استعمال ایک جنگی جرم ہے۔

انہوں نے بھارتی حکام کی انتقامی کارروائی کے پیش نظر اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے سرینگر سے ٹیلی فون پر کشمیر میڈیا سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ناانصافی کا شکار ہیں اور انتہائی کرب میں زندگی بسرکررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کشمیری عوام کے بھی حقوق ہیں تاہم بھارتی تسلط میں ان کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی قانون کسی ریاست میں شہریوں کے پرامن ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے ان پر فائرنگ کی اجازت نہیں دیتا۔
اس دوران غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ راجوری سے تعلق رکھنے والے تین کشمیری مزدوروں کو شوپیاں میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کرنے کا بھارتی فوج کا اعتراف اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی فورسز کشمیر یوں کی نسل کشی کر رہی ہیں۔
بھارتی فوج نے 18جولائی کوضلع شوپیاں کے علاقے امشی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کو شہید کرنے کے بعد انہیں نامعلوم عسکریت پسند قرار دیا تھا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز کے اہلکار حق خود ارادیت کے حصول کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے بیگناہ نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہے ہیں۔
انہوں نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں قتل کے تمام واقعات کی کسی عالمی ادارے کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ مجرموںکو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے ۔
شہید مزدور نوجوانوں کے اہلخانہ نے قاتل بھارتی فوجیوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی پولیس اور فوجیوں نے پلوامہ اور راجوری کے مختلف علاقوں سے پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔
ادھراسلام آباد میں قائم کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویب نار کے مقررین نے مودی کی زیرقیادت فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں منظم انداز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔
برطانوی اور یورپی ارکان پارلیمنٹ ، انسانی حقوق کے کارکنوں ، سابق سفارت کاروں اور ماہرین سمیت مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی حالت زار کو اُجاگر کیا۔