فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور برطانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے مابین اس سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔

پاکستان برطانیہ ٹیکس نظام کی بہتری پرمتفق
18 ستمبر 2014 (21:24)
0

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور برطانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) کے مابین ٹیکس کے نظام میں بہتری سے متعلق مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے ہیں تاکہ ملکی ترقی و خوشحالی میں اضافہ کیا جا سکے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین طارق باجوہ اور ڈی ایف آئی ڈی کے پاکستان میں سربرا رچرڈ موٹو موری نے ایم او یو پر دستخط کئے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر فلپ بارٹن بھی موجود تھے۔
مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایم او یو سے ٹیکس نیٹ بڑھانے میںمدد ملے گی جس سے ملکی سماجی و اقتصادی شعبہ کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایم او یو سے ایف بی آر اور ڈی ایف آئی ڈی کے مابین باقاعدگی سے رابطہ ہوگا اور ایف بی آر کو برطانیہ کے ٹیکس نظام اور ٹیکنالوجی اور تجربات سے مستفید ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ترکی کے ٹیکس کے نظام سے بھی مستفید ہو رہی ہے جہاں 10 سالوں میں ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر 26 فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران 319 ارب روپے محصولات جمع کئے گئے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14.5 فیصد زائد ہیں جبکہ جولائی اور اگست کے دوران 2 ارب 97 کروڑ ڈالر ترسیلات زر ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کی اس مدت کے دوران 2 ارب 64 کروڑ ڈالر تھیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر فلپ بارٹن نے کہا کہ ایم او یو سے پاکستان ٹیکس کے نظام میں بہتری لا کر محصولات کے حصول کرنے کے قابل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کاوشوں سے گزشتہ سال کے دوران ٹیکس کا دائرہ کار بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت پاکستان میں جمہوریت کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حکومت اپنے دور حکومت میں سوئزرلینڈ کے بینکوں سے رقم واپس لاتی ہے تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیا جائے گا۔