ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بحث کی جاری ہے ۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوبارہ شروع
18 ستمبر 2014 (11:07)
0

پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جرگہ آج مشترکہ حزب اختلاف کو تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مذاکرات میں ہونیوالی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کرے گا۔

انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم کیلئے استثنیٰ کے ایک قانون کی منظوری دی جانی چاہئے تاکہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کرسکیں۔
انہوں نے حکومت کے علاوہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی قیادت پر بھی زور دیاکہ وہ پانچ روز تک ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوسکے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ عمران خان موجودہ نظام پر نوجوانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچارہے ہیں جو بہت خطرناک رجحان ہے۔


انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید نے گزشتہ مہینے ٹیلی ویژن کے ایک ٹاک شو میں کہا تھاکہ وہ ملک میں انتشار پھیلانے کیلئے اسلام آباد روانہ ہوں گے اور سپریم کورٹ آئین کی دفعہ ایک سو چوراسی کے تحت صورتحال کا نوٹس لے گی۔سینیٹر الیاس احمد بلور نے کہا کہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے اور عمران خان ان سے استعفے کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔انہوں نے تحریک انصاف کے رہنمائوں کے ان دعوئوں کو مسترد کردیا کہ خیبر پختونخوا سے بد عنوانی کا خاتمہ کردیا گیا ہے انہوں نے کہا جب کبھی عمران خان پشاور کا دورہ کرتے ہیں تو چار سو پولیس اہلکاروں کو خصوصی ڈیوٹی پر تعینات کیا جاتا ہے۔

بی این پی عوامی پارٹی کی سینیٹر نسیمہ احسان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت ایک مشکل صورتحال سے گزررہے ہیں اور پنجاب اور کشمیر کے لوگوں کو شدید سیلاب کا سامنا ہے۔
ایسی صورتحال میں ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ متاثرین سیلاب کی مدد کرے، انہوں نے متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔

ایک توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں متاثرین سیلاب کیلئے بچائو اور امداد کی کارروائیاں نظر انداز کررکھی ہیں۔


انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ بھارت سے رابطہ کرے اورمقبوضہ علاقے کے لوگوں کیلئے کنٹرول لائن کے اس طرف سے امداد کی فراہمی کی اجازت طلب کی جائے۔امو ر کشمیر کے وزیر چوہدری برجیس طاہر نے کہا کہ حکومت مقبوضہ کشمیر میں متاثرین سیلاب کی مشکلات میں کمی کی کوششوں کے طور پر دفتر خارجہ کے ذریعے بھارت کو ایوان کے ان جذبات سے آگاہ کرے گی۔


انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں متعلقہ حکام متاثرین سیلاب کو امداد کی فراہمی کے کام میں امتیازی سلوک کررہے ہیں۔