طارق فاطمی نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو جس موثر انداز میں اٹھایا ہے اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکہ کی جانب سے سول ایٹمی معاہدوں کی مراعات کا باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے:فاطمی
18 اکتوبر 2015 (09:20)
0

امور خارجہ کے بارے میں وزیراعظم کے خصوصی معاون سید طارق فاطمی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سول ایٹمی معاہدوں کی مراعات کسی مخصوص ملک کیلئے نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اس کا باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو الگ تھلگ سے نہیں بلکہ اس کے علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ بھارت کو دی جانے والے ایٹمی مراعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران اٹھایا جائے گا۔


ایک سوال کے جواب میں طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کیلئے کمانڈ اور کنٹرول کا بہترین نظام موجود ہے ۔ ہمارا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے جس کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔

امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں تجارت ومعیشت ، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے شامل ہوں گے اور مثبت اقتصادی رجحانات کے ساتھ پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بہترین ملک ہے۔


طارق فاطمی نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو جس موثر انداز میں اٹھایا ہے اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن ہمسائیگی کا خواہاں رہا ہے اور جب تک افغان فوج داخلی صورتحال پر مکمل طرح سے قابو پانے کی صلاحیت حاصل نہیں کرلیتی اس وقت تک امریکی فوج کے افغانستان سے کسی بھی فوری انخلاء کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔