ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو ٹیکس کلچر کے فروغ اور اس میں اضافے کیلئے حکومت سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

دھاگے اور کپڑے کی درآمد پر10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے پر اتفاق
18 اکتوبر 2015 (10:46)
0

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اسلام آباد میں ملاقات میں سوتی دھاگے اور تیار شدہ کپڑے کی درآمد پر اگلے ماہ کی یکم سے دس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے پر اتفاق کیا ۔

ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح میں ایک فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ جننگ اور سپننگ کے شعبے طویل مدتی قرضوں کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔  طویل مدتی قرضوں کی سہولت کی شرح میں ایک سو بیسک پوائنٹ کی کمی کی جائے گی۔  سیلز ٹیکس کی واپسی کے زیر التواء مسائل حل کرنے کیلئے ریجنل ٹیکس دفاتر میں صنعت اور ایف بی آر کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔

ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو ٹیکس کلچر کے فروغ اور اس میں اضافے کیلئے حکومت سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

اس سے پہلے حکومت اور بارہ کاروباری شعبوں کے درمیان کم سے کم انکم ٹیکس کے بارے میں مفاہمت طے پائی گئی ہے۔ یہ مفاہمت ان شعبوں کے نمائندوں کی وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے اسلام آباد میں ملاقات میں طے پائی۔ 


وزیرخزانہ نے انہیں دو خصوصی پیش کش کیں کہ وہ ان میں سے کم سے کم شرح ٹیکس کی ادائیگی کا انتخاب کریں۔ٹیکس کی ادائیگی مجموعی آمدن کے دو فیصد سے کم نہیں ہونا چاہئے۔
زمینی اور فضائی ذرائع سے مال برداری کوریئر، افرادی قوت کی فراہمی ،ہوٹل، سیکورٹی گارڈ، سافٹ ویئر ٹریکنگ ،اشتہارات، Share Registrar ، انجینئرنگ اور کار رینٹل سروسز کے نمائندوں نے زور دیا کہ وہ انتہائی کم شرح منافع پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور وہ کم سے کم آٹھ فیصد ٹیکس ادا نہیں کرسکتے۔