دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کے عبوری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عبوری اقدامات کرکے کمانڈر یادیو کے کیس کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے۔

عالمی عدالت کے فیصلہ سے کلبھوشن کیس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی،دفتر اٹارنی جنرل
18 مئی 2017 (19:14)
0

اٹارنی جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے آج کے فیصلے سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی عدالت کے آج کے عبوری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عبوری اقدامات کرکے کمانڈر یادیو کے کیس کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے، عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ عبوری اقدامات سے کیس کے قابل سماعت ہونے اور عدالت کے دائرہ اختیار کے حتمی تعین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عبوری اقدامات محض ضابطہ کار کا ایک عمل ہے تاکہ عدالت آئندہ کی سماعت میں پوری طرح غور کرسکے، انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے عدالت کے حتمی فیصلے پر ہرگز کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اٹارنی جنرل کے دفتر نے کہا کہ پاکستان عدالت کے احترام میں مسلمہ علم قانون کی پیروی کرتے ہوئے سماعت کا حصہ بنا کیونکہ دائرہ اختیار پر اعتراض کارروائی سے لاتعلق رہ کر نہیں بلکہ اس میں شامل ہوکر کیا جاسکتا ہے، پاکستان اس یقین کے ساتھ سماعت میں شامل ہوا کہ تمام حل طلب مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہمیں یقین ہے کہ بھارت کمانڈر یادیو جیسے ایجنٹوں کے ذریعے کی جانے ولای تخریبی سرگرمیاں چھپانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم نے گزشتہ پیر کو اپنی درخواست میں عدالت کو واضح انداز میں یقین دلایا کہ کمانڈر یادیو کو قانون کے تحت اپنا دفاع کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کیس کے منطقی انجام تک اس کی پیروی کرے گا۔