ترجمان دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاک افغان سرحد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ سروے کے نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

بھارت کے تیزی سے پھیلتے ایٹمی پروگرام کے پاکستان کی قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے:دفتر خارجہ
18 مئی 2017 (15:46)
0

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دنیا میں بھارت کے تیزی سے پھیلتے ہوئے ایٹمی پروگرام کے جنوبی ایشیاء اور پاکستان کی قومی سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے آج اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ان رپورٹوں کا جواب دیتے ہوئے کہی کہ بھارت کے پاس دوہزار چھ سو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا مواد موجود ہے۔
انہوں نے نیوکلئیر سپلائرز گروپ کے ارکان پر زوردیا کہ وہ بھارت کو ایٹمی مواد کی منتقلی اور اسکی نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش سے متعلق خطرات پر غور کریں۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہندوانتہا پسند تنظیم راشڑیہ سیوک سنگھ مقبوضہ کشمیر میں اپنے کارکن جمع کر رہی ہے اور اپنے یونٹس قائم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ راشڑیہ سیوک سنگھ تنظیم کا اس اقدام کا مقصد ، جو ڈوگرہ اور بھارتی قابض فوج کے ساتھ مل کر نومبر 1947 میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو قتل کر چکی ہے ، کشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کی حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کو کچلنا ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کو شہید کرنے ، انہیں گرفتار کرنے اور حریت قیادت کے خلاف اقدامات کی مذمت کرتا ہے
ترجمان نے کہا کہ مشیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں اسکی توجہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی طرف دلائی گئی ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کو بھارتی خفیہ ادارے راء کے کارندگے کا مقدمہ سننے کا اختیار نہیں کیونکہ اس کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر کچھ دیہات کا مشترکہ سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور سرحد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ اس سروے کے نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔