وفاقی وزیر سیفران نے کہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں کا رواج ایکٹ ایوان میں پیش کیا گیا۔

حکومت فاٹا میں اصلاحات کے لئے پرعزم ہے: عبدالقادر بلوچ
18 مئی 2017 (14:22)
0

ریاستوں اور سرحدی علاقوں کے وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا میں اصلاحات کے لئے پرعزم ہے۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور دوسرے ارکان کی طرف سے اس معاملے پر آج قومی اسمبلی میں اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھتیس نکات پر مشتمل فاٹا اصلاحات پیکیج تمام فریقوں کی مشاورت سے تشکیل دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں کا رواج ایکٹ ایوان میں پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قومی دھارے میں شامل کرنا اور ایف سی آر کا خاتمہ پیکیج کے اہم نکات ہیں۔عبدالقادر بلوچ نے فاٹا اصلاحات کے بارے میں تمام افواہیں مسترد کر دیں۔

رانا محمد حیات خان اور دوسرے ارکان کی طرف سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے خزانہ کیلئے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل خان نے ایوان کو بتایا کہ موجودہ حکومت زرعی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے بجٹ میں کسانوں کیلئے خاصی رقم مختص کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری انتہائی کوشش ہو گی کہ شرح سود کم کی جائے اور کسانوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔

اس سے پہلے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور اسے خیبرپختونخواء میں ضم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

ایک نکتہ اعتراض پر پانی وبجلی کے وزیر خواجہ محمد آصف نے ایک رکن قومی اسمبلی کی قیادت میں پشاور میں پیسکو کے دفتر کے باہر احتجاج پر افسوس ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے رکن کے رہائشی علاقے کے اس فیڈر میں بجلی کی چوری کی شرح نواسی فیصد ہے۔
قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی چوری کی جارہی ہے تاہم جو اپنے بجلی کے بل ادا بھی کر رہے ہیں انہیں بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔

حزب اختلاف نے پیسکو کے باہر احتجاج سے متعلق پانی وبجلی کے وزیر خواجہ آصف کے ریمارکس پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

بلز

ایوان میں آج تین بل پیش کئے گئے۔ان بلوں میں دی نیشنل سکل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2017 ، بچوں کی ہمہ گیر ویکسین اور ہیلتھ ورکرز تحفظ اور ثالثی اور مصالحت کا بل شامل ہیں۔

ایوان میں آج متعدد بلوں کی منظوری بھی دی گئی۔ان بلوں میں تنازعات کے متبادل حل کا بل 2017 ، انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے کا ترمیمی بل 2017 ، اراضی کے حصول کا ترمیمی بل 2016 ، گواہوں کے تحفظ وسلامتی کا بل 2016 ، صوبائی موٹروہیکل ترمیمی بل 2015 اور عوامی نمائندگی کا ترمیمی بل 2017 شامل ہیں۔

ایوان کا اجلاس اب غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔