ارکان نے کہا کہ ایف سی امن وامان قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اس سلئے اس پر مناسب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ارکان سینیٹ کا فرنٹیئر کانسٹیبلری کو درپیش مسائل حل کرنے کا مطالبہ
18 اپریل 2016 (19:25)
0

مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے پیر کے روز سینٹ میں ایک تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فرنٹئیرکانسٹبلری کو درپیش مسائل حل کرے۔

تحریک شاہی سید نے پیش کی تھی۔
ارکان نے کہا کہ ایف سی امن وامان قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اس سلئے اس پر مناسب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ، فرحت اﷲ بابر ، اعظم خان سواتی ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، الیاس بلور ، جاوید عباسی ، طاہر حسین مشہدی ، محمد علی سیف اور ریٹائرڈ بریگیڈیر John Kenneth William نے تحریک پر اظہار خیال کیا۔
تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے ریاستوں اور سرحدی امور کے وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ فرنٹئیر کانسٹیبلری فوج اور رینجرز کی طرح جنگی فورس نہیں بلکہ اس کا کام فاٹا اور خیبرپختونخواء کے درمیان جرائم پیشہ افراد کی نقل وحرکت کی روک تھام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف سی کو ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف سی کا رواں سال کیلئے بجٹ چھہتر لاکھ روپے ہے اور اس نے آئندہ سال کیلئے دس ارب روپے طلب کئے ہیں۔
ایک اور تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے ارکان نے بول ٹی وی کی بندش پر تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹ کمپنی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہو گی لیکن ذرائع ابلاغ کے ایک ادارے کے خلاف کارروائی ٹھیک نہیں۔
وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ بول کی بندش کو ایگزیکٹ سکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے بول کا لائسنس سیکورٹی کلیرنس نہ ہونے کی وجہ سے جولائی 2013 میں منسوخ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک بول کے ملازمین کی تنخواہوں کا تعلق ہے ، وزارت اطلاعات نے وزیر داخلہ سے کہا ہے کہ وہ ایف آئی اے کو ہدایت کریں کہ وہ میڈیا کے ان اداروں کا مطالبہ پورا کریں ۔ جنہوں نے عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے کہ ادارے کے فنڈز کا کچھ حصہ بحال کیا جائے تاکہ بول کے صحافیوں کو تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔

ایوان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں بلوچستان اور فاٹا کے باصلاحیت طلباء کو معیاری تعلیم کا موقع فراہم کرنے کے لئے وزیراعظم کی سکیم کو مزید پانچ سال تک توسیع دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ قرارداد عثمان خان کاکڑ نے پیش کی تھی ۔
چیئرمین نے ایوان کو بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو فعال کیا گیا ہے اور وہ اب بٹن دبا کر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
سید طاہر حسین مشہدی کی طرف سے پیش کردہ قرارداد ایوان نے مسترد کر دی جس میں واپڈا ملازمین کو بجلی کی مفت فراہمی ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
پانی وبجلی کے وزیر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ یہ سہولت لامحدود نہیں ہے اور اس پر سالانہ اخراجات تہتر کروڑ روپے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات سے پہلے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔