Friday, 18 October 2019, 12:07:49 pm
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 45 ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج
September 18, 2019

مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 45 ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے اوربھارتی حکومت شہریوں کو تازہ ترین صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

 مقبوضہ کشمیرمیں قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی کو آج سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

مواصلاتی پابندیوں کے باعث سیدعلی گیلانی نے مراسلوں کے ذریعے صحافیوں کو اپنی رہائش گاہ پر بلایاتھا۔ تاہم جب صحافی ان کی رہائش گاہ پہنچے تووہاں پر پہلے سے تعینات بھارتی پولیس اہلکاروںنے انہیں اندر جانے سے روک دیا اور واپس جانے کیلئے کہا۔سیدعلی گیلانی 2010سے مسلسل گھر میں نظربند ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال صدیقی نے کشمیر میڈیاسروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹریو میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں صورتحال انتہائی ابتر ہے اور لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔

اب انہیں اپنے جذبات اورغم و غصے کا اظہار کرنے کیلئے بڑے بڑے مظاہروں کی اجازت نہیں دی جا رہی اور جب کہیں انہیں اکھٹے ہونے کا موقع ملتا ہے تو انہیں پیلٹ مار دیے جاتے ہیں۔بلال احمد صدیقی نے مقبوضہ کشمیر کے لوگو ں کے مصائب و مشکلات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر پاکستان کے کردار کوسراہا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات فوجی حملے سے کم نہیں ہیں۔

جموں وکشمیر محاذ آزادی اور جموںوکشمیر مسلم کانفرنس نے اپنے الگ الگ بیانات میں مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی طرف سے نافذمسلسل پابندیوں اور مواصلاتی بلیک آئوٹ پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ بھارتی پولیس نے معروف آزادی پسند کارکن مشتاق احمد زرگر کے دو بھائیوں اور بھتیجے کو سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا۔

یورپی یونین پارلیمنٹ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹالے ، علاقے میں انسانی حقوق بحال کرے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسٹرابرگ(فرانس) میں یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی۔ بحث کے آغاز پر وزیر یورپی پارلیمنٹ پرائینن نے یورپی دفتر خارجہ کا بیان پڑھ کر سنایا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں بڑی تعداد میں فوج بھیج رکھی ہے ، علاقے میں بہت سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان مسئلہ کشمیر پربات کریں جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرے۔یورپی یونین کی وزیرTytti Tuppurainenنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال انتہائی نازک ہے، مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے ۔چیئر مین انسانی حقوق کمیٹی ماریا ایرینا نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںکی جا رہی ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ فوج بھیج رکھی ہے۔ رکن پورپی پارلیمنٹ محمد شفق کا کہنا تھا کہ یورپ کو انسانی حقوق کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا، کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے کم کچھ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ مقبوضہ کشمیر پر ثالثی کرے۔لبرل پارٹی کے فل بینین کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق معطل کر رکھے ہیں۔ ایک اور رکن رچرڈ کوربٹ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینے میں ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اوروہاں پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ رکن کلاز بکنز نے کہا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کرے۔ رکن نوشین مبارک کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر یوں کو 70سال سے حق خود ارادیت سے محروم کررکھاہے اور وہ کشمیر میں تباہ کن صورتحال کاذمہ دار ہے۔ گینا ڈاڈنگ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں فوری ختم کرے۔ واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر پر 12 سال بعد بحث کی گئی۔