Friday, 18 October 2019, 10:53:39 am
کشمیری بھارت سے مادر وطن کو آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں،صدر
September 18, 2019

بدھ کے روز اسلام آباد میں کشمیر کے بارے میں ملک کے ارکان پارلیمنٹ کی کانفرنس نے متفقہ طورپر ایک اعلامیے کی منظوری دی جس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر پرتشدد کارروائیاں بند کرے اور مواصلاتی ذرائع پر پابندیاں ختم کرے ۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ پرزوردیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں حقائق معلوم کرانے کیلئے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو علاقے میں جانے کی اجازت دینے کیلئے بھارت پردباؤ ڈالے ۔

اعلامیے میں بھارت سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے جس کا وعدہ ان سے اقوام متحدہ نے کیا ہے ۔

اعلامیے میں تمام ممالک پرزوردیا گیاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں پرجاری بھارتی مظالم کی اصل صورتحال معلوم کرانے کیلئے اپنے پارلیمانی وفود کوعلاقے سے بھیج دیں ۔

کشمیر کے بارے میں ارکان پارلیمنٹ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ ماہ کی پانچ تاریخ کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا غیرقانونی، غیراخلاقی اور غیرانسانی اقدام کیا۔

صدر نے کہا کہ کشمیر کے عوام بھارت سے اپنی مادر وطن کو آزاد کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارتی قیادت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گئی تھی جہاں کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں استصواب رائے کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر اب بھی منتظر ہے کہ اقوام متحدہ عالمی برادری اور عالمی طاقتیں اسے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو بھی کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ کیونکہ مودی حکومت ہر اس آواز کو دبانے پر تلی ہوئی ہے جو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔

صدر نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو ختم کیا جانا چاہئے اور اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے حقائق جاننے کا ایک مشن مقبوضہ علاقے میں بھیجنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو زمینی حقائق جاننے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت دی جانی چاہئے۔

دریں اثنا انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کو سفارتی سطح پر تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے کیونکہ آج ہربین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر زیربحث ہے ۔

انہوں نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ نے پہلی بار کشمیر پر بحث کی اوربھارت کو دبائو میں لانے کیلئے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی بات کی ۔

شیریں مزاری نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے ۔

شیریں مزاری نے کہاکہ وہ اس ماہ کے آخر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس مسئلے پربین الاقوامی عدالت انصاف کی قانونی رائے لینے کا مطالبہ کریںگی۔

انہوں نے اقوام متحدہ پرزوردیاکہ وہ مقبوضہ وادی میں بے گناہ کشمیریوں کو ادویات اور خوراک کی فراہمی کیلئے انسانی رہداری بنائے ۔

اُدھر امور کشمیر کے وزیر علی امین گنڈا پور نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے بہادر لوگوں کوخراج تحسین پیش کیا جو سات عشروں سے بھارتی مظالم کے شکار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ موثر طورپر بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرے گا کیونکہ موجودہ حکومت ہرعالمی فورم پر کشمیریوں کیلئے آواز اٹھارہی ہے ۔

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں ' اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی کونسل پرزوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرانے میں اپنا کردارادا کریں۔

مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے پر چین' ترکی اور ایران کے کردار کو سراہا ۔