وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے مطالبہ کیاہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد دس بھی جاری کی جائے۔

سپریم کورٹ قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی: مریم اورنگزیب
17 جولائی 2017 (15:35)
0

اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ عدالت کے فیصلے کی عکاسی نہیں کرتی۔
آج اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سفارشات کو تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہے ۔انہوں نے اس اعتماد کااظہار کیا کہ عدالت عظمیٰ ملک کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی ۔
مریم اور نگزیب نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات مصدقہ نہیں اورکون ان دستاویزات کی ذمہ داری لے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد دس بھی جاری کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جے آئی ٹی کس قانو ن کے تحت ابھی تک کام کررہی ہے، ملک کے عوام کو اس سوال کا جواب چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نواز شریف کے خلاف 35 سال سرکاری عہدوں پر رہنے کے عرصے میں بد عنوانی یا سرکاری پیسے کی منتقلی کا کوئی ثبوت تلاش نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ٹولہ وزیراعظم کے خلاف سازش کرنے میں مصروف ہے اور عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد ان کے مذموم عزائم بے نقاب ہوجائیں گے۔
پشاور میں آج دہشت گردی کے حملے کا ذکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خاتمے کا حکومتی عزم متزلزل نہیں کرسکتے۔