تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان نے مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔

 تجزیہ کاروں نے نوازشریف کے دورے کو اتحاد امت کیلئے دلیرانہ اقدام قرار دے دیا
17 جنوری 2016 (18:12)
0

ممتاز تجزیہ کاروں اور سابق سفارتکاروں نے وزیراعظم کے دورے کو امت مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کیلئے ایک دلیرانہ اقدام قرار دیا ہے۔

سابق سفیر فوزیہ نسرین نے ان کے دورے کو مثبت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے شام یمن اور عراق کی صورتحال سمیت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم ہوگی۔
ماہر سفارتکار رسول بخش رئیس نے کہا کہ عرب ممالک کی موجودہ صورتحال کے وسیع تر تناظر میں پاکستان کی طرف سے اپنا کردارادا کرنے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
دفاعی تجزیہ کار طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان نے مصالحت کار کا کردار ادا کرنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔
ایک اور دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے بروقت دورے سے امت مسلمہ میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔

ممتاز تجزیہ کاروں نے وزیراعظم کے سعودی عرب اور ایران کے دورے کا خیر مقدم کیا ہے۔
امور خارجہ کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ دونوں مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے مثبت اور بروقت اقدام ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی طرف سے ثالثی کے کردار سے خطے کی کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔
سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ پاکستانی قیادت کا بروقت اقدام تنائو ختم کرانے میں اہم ثابت ہوگا۔
جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے وزیراعظم کے دورے کو تمام مسلم امہ کے مفاد میں دانشمندانہ اقدام قرار دیا۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم نے سعودی عرب اور ایران کے اختلافات ختم کرانے کیلئے ان ملکوں کے دورے کا فیصلہ کیا ہے۔
امیر جمعیت اہل حدیث پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اس دورے سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی میں مدد ملے گی۔