مقبوضہ کشمیر:سخت کرفیو اور دیگر پابندیاں جاری
17 اگست 2016 (21:39)
0

مقبوضہ کشمیرمیں کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو سونہ وار سرینگر میں اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کیلئے بدھ کے روز مسلسل چالیسیوں دن بھی پوری وادی کشمیرمیں سخت کرفیو اوردیگر پابندیاں جاری رکھیں۔
سرینگر اور تمام بڑے قصبو ں میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ مارچ کو ناکام بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف جانیوالے تما م راستوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔
مارچ کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے بھارت کے غیر قانونی تسلط اور بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کے قتل کے خلاف مشترکہ طورپرکی تھی۔
تاہم متعدد مقامات پر لو گ کرفیو اوردیگر پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انہوںنے اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کی کوشش کی ۔ لوگوں نے مارچ کی اجازت نہ ملنے پربٹہ مالو ، نواع کدل اور سرینگر کے دیگر علاقوں میں دھرنے دیئے ۔
بھارتی پولیس نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو اس وقت گرفتار کر لیا جب انہوں نے اپنے گھروں سے باہر آکر اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کی کوشش کی۔
بارہمولہ کے علاقے میں بھارتی فوج کے ایک قافلے پر آج ایک حملے میں دو بھارتی فوجی اور ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے۔