ریڈیو پاکستان بہاو لپور کی نشریات کا پہلا دن 18اگست 1975
controls_toggle
00:00

00:00
player_volume
17 اگست 2016 (18:48)
0

ریڈیو پاکستان ایسا باوقار ادارہ ہے جس نے ہمیشہ سامعین کی امنگوں، آرزوئوں اور خواہشوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، ان کی پسندکے مطابق پروگرام ترتیب دئیے ، ان کی تہذیب و تربیت کے قومی مقصد کو روبرو رکھتے ہوئے، ہر طبقہ ہائے فکر کے نمائندہ افراد و شخصیات کو تلاش کیا، اور ان کی فکر سے بھر پور طریقے سے استفادہ کیا، اگست1975ء میں جب جنوبی پنجاب میں بہاول پور کو دس کلو واٹ کا ریڈیو اسٹیشن دیا گیا، اور مقامی لوگوں کو تعلیم، تفریح اور معلومات کی فراہمی کا آغاز کیا گیا، شعری و ادبی حلقوں سے ایک ایسے شاعر و ادیب کا انتخاب ہوا، جن کی شاعرانہ ریاضت نے انھیں قد آور بنا دیا تھا، شہر کی علمی و ادبی تقریبات کے منتظمین میں ان کا نام سرِ فہرست ہوا کرتا تھا، چنانچہ ریڈیو بہاول پور کو اپنے نشریاتی سفر کے آغاز میں ہی ان کی خدمات حاصل ہو گئیں۔ ریڈیو بہاول پور کے مائیک پر پہلی انائونسمنٹ کرنے، پہلی خبریں پڑھنے، اور پہلا ریڈیائی مشاعرہ کنڈکٹ کرنے کا سہرا اُنہی کے سر بندھا، اور پھر ادیبوں شاعروں کے دل کی آواز بننے والے ادبی پروگرام نخلستان کے پہلے اور پھر طویل عرصہ تک کے مُدیر بننے اور رہنے کا اعزاز بھی اُنہی کو ملا۔
بہاول پور کی تقریباتی زندگی کے روحِ رواں، باکمال لب و لہجے کے شاعر، دیکھو یہ میرے زخم ہیں ،مجموعہ کے خالق، شعری دنیا میں بین الاقوامی شہرت و عزّت حاصل کرنے والے منوّر جمیل سے ، ریڈیو پاکستان بہاولپور کے نمائندے سجاد پرویز نے پرانی یادوں کو بازیافت کیا، ماضی کے سجیلے سنہرے دنوں کی یاد اُس شاعر کی زبانی جو کہتے ہیں،
کس نے ریت اُڑاتی شب میں آنکھیں کھول کے رکھیں
کوئی ا یک مثال تو د و ناں مری مثال سے پہلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے آنے کے دن ہیں،تیرے رستے میں بچھانے کو
چمکتی دھوپ میں سائے اکھٹے کر رہا ہوں
احمد مشتاق نے یہ شعر تو شائد اپنے بچپن میں کہا ہوگا، مگرآج یہ شعر پوری تصویر کی طرح، ہر زبان پر موجود ہے۔ آج ریڈیو پاکستان بہاول پور کی نشریات ہوا کے دوش پر اپنی آوازوں کے سفر کا آغاز کرے گی۔ لگتا ہے بہاول پور کو اپنی شناخت مل رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان بہاول پور کی عمارت رنگین قمقموں سے روشن و آراستہ ہے۔
ریڈیو پاکستان کے پہلے ا سٹیشن ڈائریکٹر ، سجاد ترمذی تعینات ہوئے ہیں اور پروگرام منیجر الطاف قریشی جو خود بھی بہت اچھے شاعر ہیں، ریڈیوکے آج کے دن کو ایک یادگار دن بنانے میں مصروف ہیں ،آج زندگی کے ہر شعبے سے متعلق نوجوان، دانشور،شاعر ،سیاسی اور سماجی حلقے اس خوشگوار احساس میں بھیگے ہوئے ہیں کہ'' ہم ریڈیو پاکستان بہاول پور سے بول رہے ہیں''۔اس اعلان کوابھی آدھا دن پڑا ہے ۔تیزی سے پروڈیوسر صاحبان اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اپنے پروگرام کو آخری شکل دے رہے ہیں۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے پروگرام کوخوبصورتی سے متعارف کرانے کے لئے محنت کر تے اور ایک دوسرے سے مشورہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔دفترمیں مشاورت جاری ہے اور نوجوان لکھاریوں ،اور آواز کا جادو جگانے والوں کی پیشانیاں بھیگی ہوئی ہیں۔ تمام ہی صداکاروں کے دلوں میں اندیشے، وسوسے ،اُمید اور نا اُمیدی کی لہر موجود ہے۔یہاں آج کئی اہم پروڈیوسرزکی تعنیاتی ہوئی ہے،کیونکہ اوّل اوّل دنوں میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کر لینے کاجذبہ بھی ان نوجوانوں کے ساتھ سفر کر رہا ہے،آج دوپہر کے ڈ یڑھ بجے یعنی ایک بجکر تیس منٹ پر ریڈیو کا آغاز ہو جائے گااور اس طرح نوجوان اپنی صلاحیت کی آزمائش بھی کر لیں گے۔ تاہم یہ امر خوش کن ہے کہ یہاں جن پروڈیوسر حضرات کی تعیناتی ہوئی ہے اُن میں انتہائی تجربہ کار ، علم و ادب ، سماجیات اور دوسرے کئی فنون کے حوالے سے مستند افراد تھے، جنہوں نے کوششوں سے بہاول پور کے جوانوں کو تلاش کیااور اُنھیں صداکاری کے معیار پر پورا ُترنے کی تربیت بھی دی۔
شعیب احمد شائد وہ خوبصورت آواز کے مالک ہیں جو آج ریڈیو پاکستان بہاول پور کا آغاز کریں گے۔اور وہ اپنی ریہرسل میں مصروف ہیں اور ظہور نظر تمام ہی شعبوں پر اپنی نظر رکھے ہوئے ہیں سرائیکی پروگرام ''روہی رنگ رنگیلڑی ''اور اردو پروگرام ''جرس ''لکھنے اور پرفارم کرنے والے اس طرح تیار ہوکر آئے ہیں جیسے آج ٹی وی چینل کا افتتاح ہو رہا ہے،ایک خوشگوار سی حیرت چہرے پررقص کر رہی ہے طاہرہ نازلی اور انجم گیلانی بھی موجود ہیں، وہ اپنے پروگراموں کو خوبصورتی سے ادا کرنے کی تمنّا دل میں رکھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر نصرُاللہ خان ناصر، جمیل اختر، بتول رحمانی، مسرت کلانچوی ا ور ڈاکٹر نواز کاوش، یہ سب متعلقہ پروڈیوسروں کے کمروں میں براجمان اپنا اپنا کام کر رہے ہیں ۔ آج کا دن بہاول پور کے علمی ،ادبی، سماجی اور ثقافتی رتبہ رکھنے والوں کے لئے ایک خوشگوار اُمید سے بھرا ہوا دن بھی ہے ، بہاول پور کو اپنی شناخت مل رہی ہے ذہین لوگوں کو ثقافتی،سماجی،سیاسی اور علمی معاملات پر گفتگو کرنے کے لئے ایک بڑا فورم مل رہا ہے۔اب نوجوانوں کی تربیت میں ریڈیو کا اپنا موئثر کردار بھی شامل ہو جائے گا۔ یہاں ظہور نظر جیسے عظیم شاعر اور شہاب دہلوی جیسے صحافی، شاعر، اور نقاد بھی ریڈیو کے آج کے دن کے حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں، آج کی نشریات تاریخی ہونگی اس لئے کہ پہلے دن کی نشریات میں ایک لائحہ عمل ملے گااور طالبان علم وفضل کو ایک نئے شوق کی تکمیل میں آگہی ہو گی، یوں لگ رہاہے جیسے آج علمی وادبی سماجی حلقے ہوا کے دوش پر اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔ ایک دبی دبی سی خواہش کو زباں دی ہے اور مکالمہ کرنے کا راستہ آراستہ ہو رہا ہے،اس سے جہاں اذہان ایک دوسرے کی قریب آئیں گے وہاں بدگمانیاں بھی ختم ہونگی،آج خبرنامہ بھی شام 7بجکر 45 منٹ پر نشر ہوگا، نیوزایڈیٹر وسیم خالدہرخبرپر نظررکھے ہوئے ہیں،اُدھر شام کو ایک مشاعرہ بھی شیڈول ہے پہلا اور تاریخی مشاعرہ۔ صحا فتی حلقے اس معجزاتی عمل کو خبر بنانے کے لئے بے چین ہیں،
کہتے ہیں ریڈیو ایک تربیت گاہ ہے۔ یقینا آج ہمیں لگ رہا ہے کہ ریڈیوکی نشریات اور ریڈیو پروگرام اورپھر آوازوں کے سائے لفظوں کو بے ہنری کی دھوپ سے بچاتے ہیں۔
آج ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ ریڈیواپنے لوگوں کو با خبر رکھتا ہے، نیوز کا شعبہ جس قدر اہم ہے ا سی قدر اُسکی ترسیل بھی اہم ہے،
دنیا جہان کے کئی فنون ایسے ہیں جن کی پوشیدگی گمراہ کرتی ہے مگر ریڈیو کا مائیکروفون ایک آئینے کی طرح ہوتا ہے ، جو بولتا ہے اُسکی قدر کرتا ہے ۔خبرنامہ ایک ایسا پروگرام ہے جو خصوصی اور اور اہم خبروں سے اپنے سننے والوں کو آگاہ رکھتا ہے۔
آج کے دن جن لوگوں کو مائیکروفون پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا اعزازحاصل ہو گا وہ لوگ آواز کے راستے پر اپنا سفر جاری رکھ سکیں گے۔
لیجیے ! ایک بج کر تیس منٹ ہوا چاہتے ہیں شعیب احمد اور انجم گیلانی پہلے انائونسر ہیں ، پہلی آواز ہیں جو ریڈیو پاکستان بہاول پور  کہہ رہے ہیں۔قاری محمد یعقوب نقشبندی کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اُنہوں نے اللہ ربُ العزت کے پاک کلام سے   ریڈیو پاکستان بہاول پور کا آغاز کر لیا ہے اور شعیب احمد رات ساڑھے گیارہ بجے تک نشر ہونے والے پروگرامواں کا خلاصہ بتا رہے ہیں کئی پروگرام ہیں جو بہاول پورکے چاروں طرف مہک رہے ہیں جومحنت کرنے والوں کی راہ میں پھول نچھاور کر رہے ہیں۔
آج بہاول پور کو اپنی شناخت مل رہی ہے جہاں دانشوروں، صحافیوں، سماجی رہنمائوں اور ثقا فتی اداروں کو اپنی اپنی بات کرنے کا ایک طاقت ور فورم میسر آجائے گا۔
رفتہ رفتہ پروگرام آگے بڑھ رہے ہیں اور نیوز سیکشن ایک ایک لمحے کو یادگار خبر بنانے کے لئے مستعد ہے،
اسی طرح قومی خبریں پھر فرمائشی پروگرام اور پھر ریڈیو کی نشریات میں آخری پروگرام۔۔۔۔۔ محفلِ مشاعرہ تھا جسے ہم نے کمپیئر کیا، یہ مشاعرہ اپنی دلفریب شاعری کے باعث رات گیارہ بجے اختتام کو پہنچا۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور پھر یوں ہوا کہ مقامی اورقومی خبروں میں ریڈیو پاکستان بہاولپورکے افتتاح کی خبروں کے باعث پورے مُلک میں ریڈیو بہاول پور کے لئے خوش آمدید کا محبت بھرا لہجہ قائم ہو گیا۔
اس طرح یہ نشریات ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئیں۔
رات گیارہ بجکر دس منٹ پراختتام ہوا تو بھی ایک ہجوم ابھی لمحات میں باقی تھا۔مبارک باد کی فضاخلوص بھرے اور اُمید افزاگفتگوکا موضوع بنی ہوئی تھی۔اور اس طرح یہ تاریخی دن ، آئندہ آنے والے دن بلکہ دنوں میں ڈھل گیا۔
بہاول پور اور پاکستان کی سلامتی کی دعائوں میں یہ دن اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭