Friday, 18 October 2019, 11:18:51 am
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اورمواصلاتی بندش مسلسل 44ویں روز بھی جاری رہی
September 17, 2019

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کا سلسلہ مسلسل 44ویں روز بھی جاری رہااور تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند جبکہ تعلیمی ادارے طلباء سے خالی رہے۔

قابض انتظامیہ نے چند محدود علاقوں میں پابندیاں کچھ نرم کیں اور سکول کھول دیے لیکن طلباء غیر حاضر رہے کیونکہ والدین احساس عدم تحفظ کی وجہ سے اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

ان علاقوں میں سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری بہت کم رہی۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل ہیں۔

موجودہ فوجی محاصرے کے سبب وادی کشمیر کے عوام کو خوراک ، دودھ اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامناہے۔

اس صورتحال میں مقامی اخبارات کی اشاعت میں بھی مشکلات ہیں جبکہ وہ اپنے آن لائن ایڈیشن بھی اپ ڈیٹ نہیں کرپارہے ہیں۔

ادھرعالمی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کیمپوں سے رات کے دوران اکثر لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں کیونکہ بھارتی فوجی مختلف دیہات سے جن نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہیں، ان کو رات کے دوران کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بناکردیگر نوجوانوں کے لیے نشان عبرت بناتے ہیں۔

پنجورہ گائوں کے ایک مقامی عہدیدار سجاد حیدر خان نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے بھارتی فوجیوں اورپولیس کے ہاتھوں صرف شوپیان سے گرفتار ہونے والے 1800افرادکی فہرست دیکھی ہے۔

مقامی لوگوں نے کہاکہ بھارتی فورسز اس طرح کی کارروائیاں مقبوضہ علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول قائم کرنے کے لیے کرتی ہیں۔

حریت رہنماا ور مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ نے ایک بیان میں عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کے رہنما محمد یاسف تاریگامی نے ایک بیان میں کہاکہ کشمیری عوام آہستہ آہستہ مررہے ہیں ۔

ادھر محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی ریاست پنجاب کے دارالحکومت چندیگڑھ میں مجوزہ ریلی میں شرکت کے لیے جانے والے ہزاروں افرادکو پولیس کی طرف سے روکنے پر مظاہرین نے احتجاجی دھرنے دیے اوربھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے پتلے نذر آتش کئے۔