وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا ہے کہ دریائے سندھ پر تمام بیراجوں کی صورتحال بہتر ہے اور گدو اور سکھر سے پانی کا ریلا آسانی سے گزر جائے گا۔

آئندہ24 گھنٹےکےدوران گدوبیراج سے7 لاکھ کیوسک پانی کاریلا گزرنے کا امکان
16 ستمبر 2014 (11:39)
0

سندھ میں آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران گدو بیراج سے چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرنے کا امکان ہے اور کچے کے علاقے سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بتایا ہے کہ دریائے سندھ پر تمام بیراجوں کی صورتحال بہتر ہے اور گدو اور سکھر سے پانی کا ریلا آسانی سے گزر جائے گا۔


ڈویژنل کمشنر لاڑکانہ نے بتایا کہ لاڑکانہ ڈویژن کے پانچ اضلاع میں 98 امدادی اور میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ریڈیو پاکستان کے لاڑکانہ کے نمائندے نور حسین چاند نے اطلاع دی ہے کہ ان کیمپوں میں خوراک ، گندم، بسکٹ اور دوسری خشک اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔

دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی سطح چار لاکھ تیرہ ہزار پانچ سو انہتر کیوسک ہے۔

 ادھر دریائے چناب میں جتوئی، علی پور، سیت پور اور پنجند کے علاقوں سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے۔سیلاب کی پیشگی اطلاعات کے لاہور مرکز اور پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق پنجند ہیڈورکس سے چار لاکھ تیرہ ہزار کیوسک کا ایک بڑا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔

چاچڑاں شریف کے قریب دریائے چناب کا پانی بھی دریائے سندھ کے ساتھ مل گیا ہے اور ضلع راجن پور میں دریا کے کنارے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ادھر کبیر والا ، ملتان صدر ، شیر شاہ ، مظفر گڑھ ، شجاع آباد اور جلالپور پیروالا کے علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونے سے صورتحال بہتر ہورہی ہے۔


مظفر گڑھ شہر اب محفوظ ہے اور شہری علاقوں میں پانی داخل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔