نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی شہر میں نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کیلئے فور واٹر پروجیکٹ کیلئے مالی مدد فراہم کرے گی۔

حیدرآباد کراچی موٹروے 2017 تک مکمل کرلی جائے گی:وزیراعظم
16 جون 2015 (18:07)
0

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لئے سندھ حکومت کی معاونت کررہی ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی میں گرین لائن ٹرانسپورٹ سسٹم کیلئے پانچ ارب روپے مختص کئے ہیں،توقع ہے کہ یہ بڑا منصوبہ بیس سے پچیس ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کراچی موٹروے پربھی کام شروع کردیاگیا ہے اور یہ شاہراہ 2017 تک مکمل کرلی جائے گی۔  

وزیراعظم نے کہا ہم موٹرویز کے حیدر آباد سکھر ،سکھر ملتان اورملتان لاہور کے حصے اپنے دور حکومت میں ہی مکمل کرلیں گے۔  انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی شہر میں نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کیلئے فور واٹر پروجیکٹ کیلئے مالی مدد فراہم کرے گی،وفاقی حکومت نے پہلے ہی د و ارب روپے جاری کردئیے ہیں جبکہ پچاس کروڑ روپے جلد جاری کئے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت گوادرکو وسط ایشیائی ملکوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ پھر شروع کررہی ہے۔  نواز شریف نے کہا کہ گوادر سے کوئٹہ تک اور کوئٹہ سے چمن تک تمام رابطہ سڑکوں کو وسط ایشیائی شہر Tirmiz سے ملایا جائے گا جو پاکستان کو چار وسط ایشیائی ریاستوں سے ملائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ چمن روٹ اگلے سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا، چمن ،قندھار، مزار شریف اور Tirmiz کوترقی دی جائے گی جبکہ پشاور ،طورخم ، جلالہ آباد موٹروے پرکام جاری ہے انہوں نے کہا کہ اس کام میں جلالہ آباد سے کابل ، مزار شریف اور Tirmizتک توسیع کی جائے گی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ انہوںنے حال ہی میں کراچی میں ایک تقریب کے دوران مکھی کی کوئی بات نہیں کی انہوں نے کہا کہ کسی نے یہ بات شروع کی تو انہوں نے صرف گورنر سندھ کی توجہ کراچی میں احتجاج اور ہڑتالوں کی طرف مبذول کرائی،انہوں نے کہاکہ جب ایم کیو ایم کے رہنمائوں سے ان کی ملاقات ہوگی تو وہ ان سے بھی اس بارے میں بات کریں گے۔

 

رشید گوڈیل نے تجویز دی کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو آمدن کے ذریعے کے پروگرام میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری رہی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے محمد اکرم انصاری نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ اچھابجٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری حکومت کی بڑی کامیابی ہے جس کے ذریعے چین چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ۔

وحید عالم خان نے صحت کے بیمے کی سکیم شروع کرنے پر حکومت کو سراہا ۔ امیر علی شاہ جاموٹ نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرعی تحقیق پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں دی جارہی ۔ رانا افضال حسین نے حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں پر اس کی تعریف کی انہوں نے کہاکہ حکومت کے موثر اقدامات کی بدولت ڈالر کی قیمت ایک سو دس روپے سے کم ہوکر ایک سو دو روپے پرآگئی ہے انہوں نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہورہا ہے ۔


انہوں نے حکومت سے کسانوں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ میرظفراﷲ خان جمالی نے وزیرخزانہ سے کہاکہ وہ بجٹ کی منظوری کیلئے حزب اختلاف کواعتماد میں لیں ۔
رشید گوڈیل نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں کراچی کو اہمیت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ ناکافی ہے ۔

جنید اکبرخان نے بجٹ پر تنقید کی اور کہاکہ یہ منتخب نمائندوں نے نہیں بلکہ افسر شاہی اور آئی ایم ایف نے بنایا ہے ۔ آسیہ ناز تنولی نے کہاکہ موجودہ حالات میں اس سے اچھا بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں تھا ۔ مولانا محمد گوہر شاہ نے بجٹ میں دینی تعلیمی اداروں کیلئے فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ کیا ۔

اقبال محمد علی کاکہنا تھاکہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیاگیا ۔ قیصر جمال نے فاٹا میں شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگانے سمیت وہاں کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکج کا مطالبہ کیا ۔ بیلم حسنین نے کہا پانی کی قلت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور پینے اور آبپاشی کیلئے پانی محفوظ کرنے کی غرض سے اقدامات کیے جانے چاہئیں ۔
ایوان کا اجلاس اب کل صبح دس بجے ہوگا ۔